murree-Lockdown- 21

لاک ڈاؤن میں نرمی نہ کی گئی تو ہزاروں خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہونگے حاجی شفاء الحق

حکومت کی طرف سے سیاحت کے فروغ کے حوالے سے پابندیوں نے کے فیصلہ خوش آئند ہے مری اورگلیات سے متعلق کوئی واضع اعلان نہ ہونے پریہاں کی ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ ہزاروں خاندانوں میں سخت تشویش پائی جارہی ہے جبکہ ہوٹل مالکان گیس،بجلی،پانی کے بل اور سٹاف کی تنخواہیں دینے کے بھی اب قابل نہ ہیں مری کاسیزن تو گزر چکا ہے باقی ماندہ سیزن بھی اگر فوری طور پر لاک ڈاؤن میں نرمی نہ کی گئی تو ہزاروں خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہونگے ان خیالات کا اظہار ہوٹل آنرز ایسوسی ایشن مری اورانجمن تحفظ شہریان مری کے صدر حاجی شفاء الحق نے اپنے تحریری بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ حکومت یوٹیلٹی بلوں میں ہوٹل انڈسٹری اور کاروباری حلقوں کو خصوصی رعائت دینے کے مکمل پیکج کااعلان کرے انہوں نے کہا کہ ہوٹل مالکان باالخصوص کرایوں پر ہوٹل اور دوکانیں حاصل کرنے وال کابہت براحال ہے جبکہ دوسری جانب مری آنے والے سیاحوں کو راستے میں جگہ جگہ روکاجاتا ہے جوملک کے دوردراز علاقوں سے براستہ مری سیاحتی مقامات پر جانا چاہتے ہیں انکو بھی روکاجاتا ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے،مری میں لوگ جلوس کی شکل میں نہیں آتے بلکہ اپنے خاندانوں کے ساتھ گاڑیوں میں آتے ہیں ان کوروکنے کی کیا وجہ ہے؟انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ سیاحت کے فروغ کیلئے فوری طور پر سیاحوں کیلئے مری اورگلیات میں پابندی کو ختم کیاجائے ہوٹل مالکان نے ازخود احتیاطی تدابیر کے انتظامات مکمل کررکھے ہیں حکومت ہزاروں خاندانوں کو فاقہ کشی سے بچائے انہوں نے شکوہ کیاکہ ہمارے نمائندگان قومی اسمبلی وصوبائی اسمبلی کو مری کی ہوٹل انڈسٹری کی کوئی فکر نہ ہے ایسے میں آئندہ انتخابات میں یہ نمائندگان اپنے حلقے میں لوگوں کو کیامنہ دکھائیں گے۔