سید نوید الحسین شاہ صاحب سجادہ نشین دربار عالیہ بابا لعل سرکار مری سوراسی 21

مشہور گہل طیبہ قتل یا خود کشی کیس کا نیا موڑ

مری مشہور گہل طیبہ قتل یا خود کشی کیس کا نیا موڑ ۔پولیس چوکی نیو مری کا انچارج سسپنڈ ۔مری پولیس کی سرزش ۔۔کیس سی آئی اے کو منتقل کرنے کے احکامات سی پی او یونس احسن نے جاری کر دئے ۔فوری انکوائری اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا حکم جاری کر دیا ۔گزشتہ روز پیر سید نوید الحسین شاہ صاحب نے ایم این اے پروفیسر صداقت علی عباسی کو اس کیس کی تفصیل سے آگاہ کیا کہ طیبہ خود کشی یا قتل کیس کے بارے میں پولیس مدعیون کے ساتھ تعاون نہیں کر رہئ اور حماد ایس آئی نیو مری چوکی پر الزام ہے کہ اس نے دوسری پارٹی کے ساتھ ملکر کیس خراب کیا ہے اور درخواست دھندہ کو انصاف کے حصول کے لئے بہت مشکلات کا سامنا ہے ۔سید نوید الحسین شاہ صاحب کی بات چیت کے بعد ایم این اے پروفیسر صداقت علی عباسی نے فوری سی پی او راولپنڈی سے رابطہ کیا اور طیبہ کیس کے بارے میں تمام حقائق سے آگاہ کیا جو پر سی پی اور نے متاثرہ پارٹی کو بلا لیا اور ان کی تمام آپ بیتی سننے کے بعد انچارج پولیس چوکی نیو راجہ حماد کو معطل کر دیا اور مری پولیس کی ناقص کار کردگی پر سرزش کی ۔سید نوید الحسین شاہ صاحب نے ایم این اے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد ہر ایک کو انصاف کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے جس کی ہم کوشش کر رہے ہیں اور ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ کوئی بے گناہ اور کیس میں پھنس جائے بلکہ صاف اور شفاف انکوائری کے لئے سی پی اور راولپنڈی نے مری پولیس کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے اس کی انکوائری سی آئی اے راولپنڈی کو دینے کا حکم دیا اور انھیں ہدایات جاری کیں کہ کیس کی مکمل چھان بین کر کے غفلت کرنے والے مزید پولیس افسران کی نشاندھی بھی کریں اور طیبہ کیس کی مکمل انکوائری جدید تقاضوں سے کی جائے اور مقتولہ کے لواحقین کو پوری طرح مطمئن کیا جائے اور اگر طیبہ کو قتل کیا گیا ہے تو فوری گرفتاری کے کے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔سجادہ نشین دربار عالیہ بابا لعل سرکار سید نوید الحسین شاہ صاحب نے کہا ہے کہ پروفیسر صداقت علی عباسی نے مظلوموں کی حمایت کر کے غرباہ فیملی کے سر پر دست شفقت رکھا ہے ہم ان کی دل سے قدر کرتے ہیں ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں