تبدیلی سرکار 125

ملکہ کوہسار مری تبدیلی سرکار نے پندرہ ماہ کے اندر معاشی حالات کو تباہ کر دیا،تاجر و ہوٹل مالکان کا کاروبار ٹھپ

ملکہ کوہسار مری تبدیلی سرکار نے پندرہ ماہ کے اندر معاشی حالات کو تباہ کر دیا، ملک کے کاروبار کو ٹھاپ کر کے رکھ دیا،بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکال کے رکھ دیں بڑھتی ہوئی مہنگائی سے تنگ آکر مالک نے اپنے ہی ہوٹل من وسلوی جو کے مری مین مال روڈ پرقائم ہے،عرصہ دراز سے چل ر ہا تھا، موجودہ حکومت کی پالیسوں سے تنگ آ کربند کردیاگیا،جس میں پندرہ ملازمین کا روز گار لگا ہوا تھا،اور جس سے ان غریبوں کے گھروں کے چولہے جل رہے تھے۔پندرہ ماہ کے اندر تبدیلی سرکار کے اثرات نظر آنے لگے، ہوٹل کے مینجر کا کہنا ہے ہوٹلز جن چیزوں پر چلتے ہیں اگر وہی چیز پہنچ سے دور ہو جائے تو اس میں ہم کیا کمائے گئے اور کیا کھائے گئے عام سبزیوں سے لے کر گوشت مرغی گیس تک کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر ررہی ہے،دوسری جانب دوکانداروں کا بھی یہی ردعمل ہے، ان کا کہنا ہے کہ اتنا ہم کماتے نہیں جنتے ہمارے روز کے خرچے ہیں،تبدیلی سرکار کے نعرے مری میں دھرے کے دھرے رہ گئے،اگر یہ سب ایسے ہی چلتا ررہا تو امیر تو کھائے گا غریب کہا ں جائے گا،عوامی حلقے نے کہا ہے چوروں کی حکومت چلی گئی ا ب منگتو کی حکومت آ گئی،ہربار غریبوں کو سب ٹھیک ہو جانے کی تسلی دی جاتی ہے لیکن جب تک سب ٹھیک ہوتا ہے،وزیراعظم عمران خان صاحب کے پانچ سال پورے ہو جائے گئے۔اگر اسی طرح کے حالات رہے تو مجبورا وہ دن دور نہیں جب عوام روڈوں پر نکل کر موجودہ حکومت کے خلاف بھر پور احتجاج کرے گی،وزیراعظم عمران خان نکس پالیسیوں کے باعث عوام کے ساتھ ساتھ تاجر بھی پیسنا شروع ہو گئے،عمران خان صاحب یہ کوئی کرکٹ گراؤنڈ نہیں ہے،جہاں پرآپ میچ جیت جائے یا ہار جائے۔وہاں پر عام عوام کو کوئی فرق نہیں پڑتا،یہ بائیس کرروڑ عوام کی بات ہے جہاں پر انسانی زندگیاں بستی ہیں،ضروریاتیں زندگی کی تمام اشیاء اور معاشی حالات کو بہتر طریقے سے چلنے کے لیے ہی عوام آپ کو اسمبلی تک بیھجتی ہے، تبدیلی کے سہانے باغ جو دیکھائے گئے تھے وہ تو دیکھائی نہیں دے رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں