School van Murree 106

ملکہ کوہسار مری میں ڈرائیور چند پیسوں کے لیے معصوم بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے لگے

ملکہ کوہسار مری میں ڈرائیور چند پیسوں کے لیے معصوم بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے لگے ،ٹریفک پولیس بے بس مری میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں اور بچیوں کی زندگیاں خاطرے میں پڑ گئی ۔چند پیسوں کے حصول کے لیے گاڑیوں میں اور لوڈنگ کی جانے لگی۔ ایک گاڑی کے اندر اگر پندرہ بچوں کی گنجائش ہے تو یہ اس میں تیس بچوں کو بٹھاتے تے ہیں اس کے علاوہ گاڑیوں کے اندر سی ،این ،جی کے سیلنڈر بھی لگے ہوئے ہیں اور کہی گاڑیوں میں بچوں کو مجبورا گاڑی کے باہر کتابوں بوجھ اٹھا کرلٹک کر سکول پہنچنا پڑتا ہے ۔اور کہی خاطروں سے بھی لڑنا پڑتا ہے،کہی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر ڈرائیور موجود نہیں تو اپنے کم سن بچے کو گاڑی چلانے بیھج دیا جاتا ہے جس جس کے پاس ڈرائیوری لائسنس بھی موجود نہیں ہوتا، اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی گاڑویوں کو اور ٹیک بھی کیا جاتا ہے جو کہ کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا شکار ہو سکتے ہیں ،ٹریفک پولیس کے سامنے ہر روز یہ گاڑیاں ایسے ہی گزر کر جاتی ہے۔ جو کہ شاید کسی بڑے حادثے کے انتظار میں ہیں اور اس امر کو روکنے میں بری طرح ناکام ہیں ، انھیں لا پرواہیوں کی بنا پرکچھ ماہ پہلے بانسرہ گلی کا بچہ گھر سے تو تعلیم حاصل کرنے کے لیے نکلا تھا۔ لیکن راستے میں گاڑی سے گر کر شدید زخمی ہویا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خلق حقیقی سے جا ملا،اسی طرح گلڈنہ روڈ پر تیز رفتاری کے باعث سکول وین آپس میں ٹکرا گئی جس سے بچے شدید زخمی ہوئے تھے،بڑھتے ہوئے روڈ اکسیڈنٹ کی بنیادی وجہ کم عمر نوجوان جو کے گاڑیوں کو ڈرائیو کرتے ہیں۔ اور انسانی زندگیوں کے ساتھ کھلتے ہیں مگر ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے،ٹریفک پولیس کی جانب سے عملی اقدامات کرنے کی سخت ضرورت ہے،تا کہ یہ معصوم اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ محفوظ اور اچھا سفر کر سکیں-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں