29

مری مقامی لوگوں کو رزق حلال کمانے کے لیئے کیبن لگانے کی اجازت نہیں

Murree locals are not allowed to set up cabins to earn halal food

مری مقامی لوگوں کو رزق حلال کمانے کے لیئے کیبن لگانے کی اجازت نہیں۔جبکہ اسسٹنٹ کمشنر مری کے چہیتے ملازم نے جی پی او چوک کے ساتھ مال روڈ پر کیبن بنانے میں کامیاب۔جو وقت گزرنے کے ساتھ دوکان کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔کئی سال قبل اسسٹنٹ کمشنر مری کے ملازم نے مری کے معروف جی پی او چوک کے ساتھ مین مال روڈ پر چپس بنانے کی مشین لگائی۔جبکہ اس جگہ پر کئی اور مری کے مقامی نوجوان بھی چپس فروخت کر اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے جنکو مال روڈ کی خوبصورتی متاثر ہونے جی پی او چوک کے لیئے سیکورٹی رسک اور تجاوزات کے زمرے میں لاکر ہٹا دیا گیا۔ اور کئی مری کے باعزت گھرانوں کے نوجوان آج بھی اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیئے گاڑیوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔جبکہ مین مال روڈ جی پی او چوک میں سرکاری اہکار کی اپنے افسران کی آشیرباد سے چپس کی مشین کیبن کی شکل اختیار کرتے ہوۓ آنے والے وقتوں میں دوکان کی شکل اختیار کر سکتی ہے.جب کہ مقامی لوگوں کے حقوق کی علمبردار سیٹزن فورم۔ہوٹل ایسوسی ایشن کی بند کمروں کی تنظیم سمیت تاجران کے نمائندے بھی اس اندھیر نگری چوپٹ راج پر خاموش تماشائی بن کر سرکاری اہلکاروں کے خیر خواہ بنے ہوۓ ہیں۔آج بھی مری میں مال روڈ کشمیر پوائنٹ سمیت ہر سیاحتی مقام پر کوئی قبر حشر کا خوف سامنے رکھ کر انکوائری اور تحقیقات کریں تو اکثریت کیبن بااثر کھاتے پیتے افراد۔سرکاری ملازمین اور بااختیار سیاسیوں کے ہم نوالہ ہم پیالہ یا افسران کی آشیرباد حاصل کرنے والوں کے نکلیں گے۔مری کے باعزت گھرانوں کے افراد اور نوجوانوں کو شعبہ ایجنٹی میں لا کر زندگیاں تباہ کرنے میں مفاداتی معاشرے کا بہت بڑا کردار ہے۔مری کے سرکاری محکموں میں ملازمتوں پر بھی اکثریت غیر مقامی افراد ہی بھرتی ہوۓ نظر آتے ہیں۔جنکے ڈومسائل بھی عین ممکن ہے ملی بھگت سے بنے ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں