iesco 53

محکمہ واپڈا کا سال 2022 کی شروعات میں مری سانحہ میں کردار

محکمہ واپڈا کا سال 2022 کی شروعات میں مری سانحہ میں کردارمری میں برف باری کے دوران یوں ہوا کہ بجلی کے پول روڈ سے باہر اگر گرے تو ایسے میں تاریں روڈ پر آ گئیں جب تاریں روڈ پر گری تو خوف کا عالم چھا گیا کہ بجلی کی ہائی وولٹج کی تاریں ہیں ان میں کرنٹ بھی ہو گا تو ایسے میں جب یہ بات میڈیا کی نظر میں آئی تو میڈیا نے پھر فوری ایس ڈی واپڈا اور ترجمان واپڈا مری کے نوٹس میں دیا

جس کے بعد محکمہ واپڈا نے فیلڈ میں کام کرنا شروع کیا جبکہ مری مال روڈ اور شہر کی لائٹ دوسرے دن بحال کر دی اور مضافاتی علاقوں کی بجلی تین سے چار دن بعد بحال کی

لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ مری واپڈا کے پاس مینٹیننس یونٹ کے سٹاف اور لائن مینوں کی انتہائی کمی ہے

اگر ایک جگہ پہ محکمہ واپڈا کے اہلکار کام کرتے بھی دکھائی دیے تو دوسری جگہ کے لیے سٹاف کی کمی کی وجہ سے کام نہ ہو سکا کیونکہ سٹاف کی انتہائی کمی ہے محکمہ واپڈا مری کے پاس

لیکن اگر میں یوں کہوں کہ محکمہ واپڈا مری کے لائن مینوں اور مینٹیننس یونٹ نے ہر ممکن حد تک بجلی بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کیا اور ایس ڈی او واپڈا پنڈی پوائنٹ بھی فیلڈ میں سٹاف کے ہمراہ نظر آتے رہے تو اس میں بھی شک نہ ہے

میرے نتیجے کے مطابق محکمہ واپڈا کی طرف سے جو تاخیر ہوئی اُسکی بڑی وجہ سٹاف کی کمی ہے

اسلیے مری محکمہ واپڈا کے سٹاف کی کمی کو فوری پورا کیا جانا چاہیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں