Water supply 68

پبلک ہیلتھ کی نااہلی کے باعث گندا اور آلودہ پانی شہر اور گرد نواح میں سپلائی کیا جانے لگا

مری پبلک ہیلتھ کی نااہلی کے باعث گندا اور آلودہ پانی شہر اور گرد نواح میں سپلائی کیا جانے لگا جس کو استعمال کرنے کے باعث لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے کشمیر پوائنٹ کے پانی کے تالاب گندگی سے بھرے پڑے ہوئے تفصیلات کے مطابق ایک اندازے کے مطابق دنیا میں تقریبا دو ارب لوگ سیوریج ملا پانی پینے پر مجبور ہیں اور یہ پانی ڈائریا ،ٹائیفائیڈ،پولیو اور دیگر موذی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے پانی بحران سے صحت ،غذائی سیکورٹی ،تعلیم ،غربت کے خاتمے پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ،دنیا بھر میں پانی ایک سنگین مسلہ ہے صاف پانی تک رسائی خواہ وہ پینے اپنے بدن کو صاف کرنے ،کھانا پکانے یا اپنی فصل جو اگانے کے لیے ہو ہر انسان کا بنیادی حق ہے پر پاکستان میں معاملہ کچھ اور ہی دیکھائی دیتا ہے ،آئے دن نئی رپورٹ شائع ہو تی ہے اور اس کا اخذ یہ ہوتا ہے کہ پاکستان بہت جلد پانی کی بہت بڑی قلت کا شکار ہونے والا ہے پاکستان نے اپنے قیام سے آج تک جتنے مسائل کا سامنا کیا اگر ان کی گنتی کرنے بیٹھ جائیں تو فہرست بہت طویل ہو جائے گی وطن عزیز کو اب بھی کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس میں ملکہ کوہسار مری بھی شامل ہے جبکہ اگر دیکھا جائے تو مری ایک پہاڑی اور ٹھنڈا علاقہ ہے جہاں گرمی کے موسم میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے جس کی بنیاد پر مری میں پانی کی قلت حریت انگیز بات ہے ملکہ کوہسار مری پاکستان کا خوبصورت ھل اسٹیشن ہے جہاں پر دنیا بھر سے سیاح سیرو تفریح کے لیے مری کے مختلف سیاحتی مقامات پر رخ کرتے ہے لیکن سیزن آتے ہی پانی کا مسلہ عروج پر پہنچ جاتا ہے جس سے مقامی اور آنے والے سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہےپبلک ہیلتھ مری مقامی لوگوں سے ہزاروں روپے تو بٹور لیتی ہے مگر آلودہ پانی کی سپلائی کی جاتی ہے جس کی واضع مثال کشمیر پوائنٹ کے پانی کے تالاب ہے جو گندگی سے بھرے پڑے ہیں