Dr. Faiza Kanwal 261

ایم ایس ٹی ایچ کیو مری سے سی ای او راولپنڈی بننے والی ڈاکٹر فائزہ نے کرپشن کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے

مری:ایم ایس ٹی ایچ کیو مری سے سی ای او راولپنڈی بننے والی ڈاکٹر فائزہ نے کرپشن کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ایماندار افراد کے لیئے ضلع راولپنڈی کے محکمہ ہیلتھ میں فرائض سر انجام دینا مشکل ترین دور ہے۔ وزیراعظم کے انصاف اورکرپشن فری پاکستان کے ویژن کے برعکس سی ای او ہیلتھ راولپنڈی کی کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے پر کامران افضل ملک سٹور کیپر کو ضلع بدر کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق کامران افضل ملک سٹور کیپر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی نے 21 مئی 2021 کو صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کو ایک بیان حلفی ارسال کیا تھاجس میں ڈاکٹر فائزہ نعیم سی ای او ہیلتھ سابق ایم ایس تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال مری سے سی ای او راولپنڈی کی سیٹ تک پہنچنے والی ڈاکٹر فائزہ کے خلاف کرپشن کے مبینہ ثبوت فراہم کئے تھے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے مری کی یونین کونسل گھوڑا گلی کے بنیادی مرکز صحت سے درجنوں درخت ڈاکٹر کلثوم نے کٹواۓ جس کے بارے میں ڈاکٹر فائزہ کو آگاہ کیا گیا جو لین دین کی نظر ہوا۔ جب کہ درخت کاٹنے کے ساتھ کامران افضل ملک والا معاملہ ہوا۔جس پر انکوائری یا کاروائی ہونے سے قبل ہی سزا کے طور پر غیر قانونی طریقہ سے کامران افضل ملک کی سروسز ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کو سرنڈر کر دی گئیں ۔ڈاکٹر خالد محمود ڈائریکٹر ہیلتھ نے سی ای او ہیلتھ کی سفارش پر کامران افضل ملک کا تبادلہ ضلع اٹک کر دیا۔یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان افسران نے کرپشن چھپانے کی خاطر قانون کی دھجیاں اڑا رکھی ہیں اور اپنے ہی محکمہ کی ہدایات کو ہوا میں اڑایا ہوا ہے۔محکمہ صحت پنجاب کی ہدایات 11 فروری 2008 ، یکم اگست 2017 اور محکمہ سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن کی ہدایات 4 جولائی 2016میں واضح احکامات موجود ہیں کہ کوئی بھی کنٹرولنگ افسر اپنے کسی بھی ماتحت کی سروسز سرنڈر نہیں کر سکتا بلک اگر اس کے خلاف کوئی غیر ذمہ داری کی شکایت ہو تو اسکے خلاف انکوائری کر کے رپورٹ کاروائی کے لیے بھیج سکتے ہیں۔مگر ان دونوں افسران نے ان واضح ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے محض سی ای او ہیلتھ کی کرپشن پر پردہ ڈالنے کے لئے اس اہلکار کو ضلع بدر کردیا گیا۔