Department of Agriculture 55

مری کی سونا اگلتی زمین محکمہ زراعت کی لاپرواہی کی بنا پر بنجر بن گئی

مری کی سونا اگلتی زمین محکمہ زراعت کی لاپرواہی کی بنا پر بنجر بن گئی۔محکمہ زراعت کی طرف سے کئی سالوں سے گزشتہ کئی سالوں سے مری کے دیہی علاقوں کے باسیوں کو پھلوں سبزیوں فصلوں کے حوالہ کسی قسم کی آگاہی فراہم ہی نہیں کی گئی۔ایک زمانہ تھا کہ پھلوں کے حوالہ سے ملکہ کوہسار مری کا سیب۔ناشپاتی۔امردو۔نمبو۔خوبانی۔ہاڑی۔آلو بخارا۔بگوگوشہ۔آلوچہ۔اخروٹ۔وغیرہ سبزیوں میں کدو۔آلو۔شلجم۔فریش بین۔توری۔کھیرا۔ٹماٹر وغیرہ اور فصلوں میں گندم۔مکئی وغیرہ اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے آج سے 20 سال قبل تک محکمہ زراعت کی ٹیمیں گاؤں گاؤں جاکر مقامی زمینداروں کو بہترین کاشت کے لیئے مشورے۔اور حفاظتی تدابیر سے جہاں آگاہ کرتے تھے اور بیج پودے فراہم کیے جاتے تھے۔جس سے دیہی علاقوں میں آباد لوگوں میں دلچسپی پیدا ہوتی تھی اور اس بنا پر مری کے پھل جن میں سیب خوبانی۔آلوبخارا کی عالمی سطح پر شہرت تھی۔اور سبزیوں میں آلو۔کدو۔شلجم فریش بین۔وغیرہ منڈیوں تک جاتے تھے جس سے لوگوں کی معاشی حالت بھی کافی بہتر تھی اور پھل سبزیاں فصلیں دوسرے شہروں تک بطور تحفہ بھیجی جاتی تھیں اور مری شہر کے تاریخی مال روڈ کے کنارے مقامی افراد ان چیزوں کو روزانہ اپنے کھیتوں سے لاکر فروخت کرتے تھے جو مری کے حسن میں بھی اضافے کا سبب تھے جو اب سب کچھ محکمہ زراعت کی نااہلی لاپرواہی ہڈحرامی کی وجہ سے ختم ہو چکا ہے جس پر اب حکومت پنجاب محکمہ زراعت اور مری کے ذمہداران کو توجو دیکر یہاں کی بنجر ہو جانے والی زمینوں کو پھر سے آباد کرنے کے لیئے آگاہی مہم اور موثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔جس سے مقامی لوگوں کی معاشی حالت میں بھی بہتری آ سکتی ہے اور حکومت وقت کے لیئے بھی آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ سرپرستی کی جاۓ۔اور متلقہ محکمہ زراعت کو راہ راست پر لایا جاۓ۔۔۔