Public transport 24

پبلک ٹرانسپورٹ کے نام پر عام آدمی کی جیب پر ڈاکا

راولپنڈی سے نیومری روٹ کی گاڑیاں جو راولپنڈی تا نیومری بازار یا راولپنڈی تا ڈھانڈہ چلتی ہیں نے بہت عرصے سے لوٹ مار مچا رکھی ہے۔ راولپنڈی سے نیومری کا فاصلہ تقریباً 60 کلو میٹر ہے اور راولپنڈی سے ڈھانڈہ کا فاصلہ تقریباً 73 کلومیٹر ہے جبکہ تیرہ سواریوں کا کرایہ راولپنڈی تا نیومری 140 روپے فی کس اور روالپنڈی تا ڈھانڈہ 170 روپے فی کس ہے۔ لیکن ان دونوں روٹس پر چلنے والی گاڑیوں پر سواریاں بھی 13 کے بجائے 17 بٹھائی جاتی ہیں اور مسافروں سے کرایہ بھی پورا لیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مسافروں کیلیے اتنی تنگ جگہ پر بیٹھ کر سفر کرنا بھی مشکل ہوتا ہے اور بیماروں کیلیے تو یہ سفر کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا ۔ٹریفک پولیس اور ایکسپریس وے پولیس کو بھی ان گاڑیوں کے ڈرائیور چکمہ دینے کے ماہر ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایس او پیز کے نام پر مسافروں کو کھلے عام لوٹا جا رہا ہے اور کوئی بھی ان کو لگام ڈالنے والا نہیں سواریاں بھی 17 بٹھائی جاتی ہیں اور کرایہ راولپنڈی تا نیومری 140 روپے کی بجائے 200 روپے جبکہ راولپنڈی تا ڈھانڈہ 170 روپے کے بجائے 250 روپے جبراً مسافروں سے وصول کیا جاتا ہے اور عید کے دنوں میں تو عیدی کے نام پر یہی کرایہ گاڑیوں کی شارٹیج کا بہانہ بنا کر 300 روپے سے 350 روپے فی کس تک وصول کیا جاتا ہے۔

بس اب بہت ہو گیا !!!!!

آر ٹی اے ، ایکسپریس وے پولیس اور ٹریفک پولیس سمیت تمام متعلقہ محکموں کو اس مافیا کو لگام ڈالنی ہی ہو گی بصورت دیگر عوام سڑکوں پر ہو گی اور اس کا ہاتھ اس مافیا کے گریبان پر ہو گا !