56

مری انصاف نہ ملنے پر سینٹری ورکر نے خودکشی کر لی

مری کا غریب سینٹری ورکر انیس نے اپنی ساری زندگی کی جمع پو نچی کرپٹ لینڈ مافیا اور محکمہ جنگلات کے ہاتھوں لٹ جانے کے بعد دلبرداشتہ ہوکر خود کشی کر لی چار بچوں کے باپ کی زندگی کے خا تمے کا ذمہ دار کون؟ کیا اس کے بچوں اور بوڑھی ماں کو انصاف مل سکے گا افسوس ناک واقع کے بعد علاقے کی فضاء سوگواراور ہر آنکھ اشکبار ہے وزیر اعظم پاکستان عمران خان، چیف جسٹس آف پاکستان،چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ اور قانون کے اعلیٰ حکام سے غریب گھرانے کو انصاف دلوانے اور مجرموں کو کٹہرے میں لاکر سخت سے سخت سزا دی جائے لواحقین اوراہلیان علاقہ کامطالبہ، مری موٹر ایجنسی کے قریب واقع قبر دوار اور گردونواح میں محکمہ جنگلات کے کرپٹ افسران اور اہلکار لینڈ مافیا کی ملی بھگت سے سرکاری زمینوں کی بڑے پیمانے پر خریدو فروخت جاری ہے،محکمہ جنگلات کی سینکڑوں کنال کی اراضی محکمہ جنگلات میں موجود کالی بھیڑوں اور کرپٹ لینڈ مافیا کی ملی بھگت سے اونے پونے داموں فروخت کا سلسلہ عروج پر ہے جنہوں نے مال بنانے کی غرض سے غریب سینٹری ورکر کو بھی نہیں بخشا انیس نامی سینٹری ورکر نے اپنی ساری زندگی کی جمع پونچی اکھٹی کر کے تین چار مرلہ زمیں مقامی کرپٹ لینڈ مافیا ء سے خریدی جنہوں نے اس کے نام جنگلات کی اراضی جعلی رجسڑی کے ذریعے منتقل کر دی اور اس کو جنگل کی زمین پر قبضہ دے دیا گیا لیکن جنگل کے کرپٹ اہلکاروں کو حصہ نہ ملا جنہوں نے غریب آدمی سے قبضے کیلئے مزید پیسوں کا تقاضہ کیا انکار پر انہوں نے اس سے زبردستی زمین خالی کروا لی غریب سینٹری ورکر کئی عرصے تک در بدر کی ٹھوکریں کھاتا رہا اور انصاف کیلئے تمام افسران کے دروازہ کھٹکھٹائے لیکن کوئی شنوائی نہ ہونے پر دلبرداشتہ ہو کر گزشتہ روز گلے میں پھندا ڈال کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا غریب سینٹری ورکر کے چار چھوٹے چھوٹے بچے بیوہ اور بوڑھی ماں چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ وہ اس کا خون کس کے ہاتھ میں تلاش کریں انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کو انصاف فراہم کیا جائے اور اس کے قتل کے ذمہ داروں کو قانوں کے کٹہرے میں لایا جائے۔