Begging 116

ملک بھر سے پیشہ ور بھیک مانگنے والوں نے ملکہ کوہسار مری کا رخ کر لیا

مری:رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ شروع ہوتے ہی ملک بھر سے پیشہ ور بھیک مانگنے والوں نے ملکہ کوہسار مری کا رخ کر لیا نت نئے انداز میں مختلف مقامات پر بھیک مانگنے والوں نے اپنا کاروبار جما لیا،انسان جب تک زندہ رہتا ہے ضروریاتیں زندگی مثلا روٹی ،کپڑا،مکان ،بجلی، گیس،اور دیگر چیزوں کا مختاج ہوتا ہے ،لیکن یہ ضرویارت اورسہولیات مفت میں نہیں ملتی بلکہ مال خرچ کرنا پڑتا ہے جبکہ مال ،کاروبار،نوکری،یہ سب محنت مزدوری سے حاصل ہوتا ہے ،اللہ تعالی نے روزی کمانے کے مواقع سب کو عطا فرمائے ہیں ،اب یہ ہم پر ہے کہ ان سے ہم کتنا فائدہ اٹھاتے ہیں ،اور کس طریقے سے ہم اپنی روزی کماتے ہیں بہر حال آپ کو بھاری تعداد ایسے مسلمانوں کی ملے گی جو محنت مشققت کر کے خون پسینہ بہا کر روزی کماتے ہیں اور اپنے بیوی بچوں کی اچھے سے کفالت کرتے ہیں یہ لوگ خوش نصیب ہیں کیونکہ رسولﷺ سے جب پاکیزہ کمائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے ارشاد فرمایا ہر وہ تجارت جس میں دھوکا نہ ہو اور اپنے ہاتھ سے کی گئی کمائی۔اسی دنیا میں لاکھوں لوگ ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو بلا اجازت شرعی اندز میں بھیک مانگ کر اپنے لئے دوزخ کے انگارے جمع کر رہے ہوتے ہیں ہمارے معاشرے میں روزی کمانے کا سب سے آسان راستہ بھیک مانگنے کو سمجھا جاتا ہے ۔مری کے مختلف سیاحتی مقامات مال روڈ ، پنڈی پوائنٹ،کشمیر پوائنٹ ، جی پی او چوک، میں مختلف انداز میں پیشہ وار بھیک مانگنے والے اللہ اور رسولﷺ کا واسطہ دے کر لوگوں کو مجبور کرتے ہیں بھیک دینے پر اور اگر لوگ بھیک دینے سے انکار کر دے تو یہ بددعائیں دینا شروع کر دیتے ہیں جو کہ انسانیت سے گرا ہوئی حرکت ہے یعنی پیشہ ور بھکاری اور بلا ضرورت لوگوں سے مانگنے کا عادی قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرے میں صرف ہڈی اور کھال ہو گی گوشت کا نام نہ ہو گا،جس سے محشر والے پہچان لیں گے کہ یہ بھکاری تھا اس کے چہرے پر ذلت وخواری کے آثار ہوں گے ،جیسے دنیا میں بھی بھکاری کا منہ چھپا نہیں رہتا لوگ دیکھتے ہی پہچان لیتے ہیں کہ یہ سائل ہے،بھیک مانگنے والا دنیا میں تو ذلیل و رسوا ہوتا ہی ہے بروز قیامت بھی اسے رسوائی کا سامنا ہو گا،مری انتظامیہ کوچاہیے کہ ایسے پیشہ ور اناثار کو فل فور مختلف مقامات سے اٹھایا جائے اور ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے،