Resource Center 20

ریسورس سنٹرمری کے ملازمین کی فریاد

مری:ریسورس سنٹرمری کے ملازمین کی فریاد،ریسورس سنٹرمری کے ملازمین کے گھروں میں بیماریوں اورمجبوریوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں قرضے کے بوجھ تلے دبے ملازمین کیلئے سحری اور افطاری بھی مشکل ترین ھو گئی ھے 9سال سے ملازمت کرنے والے غریب ملازمین کی فریادکون سنے گا گزشتہ 21 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ملازمین فریادکرکرکے تھک گئے مگریقین دہانیوں کے باوجودابھی تک تنخواہوں کی ادائیگی نہیں ہوسکی ھے تمام مشکلات کے باوجود یہ ملازمین مستقل اپنی ڈیوٹی اور فرائض اداکر رہے ہیں پنجاب حکومت نے جب سے ریسورس سنٹر قائم کیا اس وقت سے یہ ملازمین کام کررھے ہیں اورجب سے ریسورس سنٹرکوہسار یونیورسٹی مری کے ایڈمن بلاک میں تبدیل کیاگیااس کے بعدبھی یہ ملازمین کوہسار یونیورسٹی کے ملازمین کے طورپر اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے ہیں مگر21ماہ کے طویل عرصہ سے تنخواہوں سے محروم ملازمین نے وزیراعظم عمران خان اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے عید سے قبل تنخواہوں کی ادائیگی کی فریادکی ھے موجودہ ایڈمن بلاک کوہسار یونیورسٹی مری اور سابق ریسورس سنٹر مری میں گذشتہ نو سالوں سے اپنے فرائض سرانجام دینے والے 14ملازمین اکیس ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں تنخواہوں کی اس طویل بندش کی وجہ سے ان ملازمین کے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں قرضوں کے بوجھ نے ملازمین کا جینا دوبھر کر دیا ہے ہائی کورٹ اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور خان کی جانب سے بھی متاثرہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے احکامات صادر کیئے جا چکے ہیں لیکن ان احکامات پر بھی ابھی تک عملدرآمد نہیں ہو سکا وائس چانسلر کوہسار یونیورسٹی مری ڈاکٹر سید حبیب بخاری نے عدالتی احکامات کی روشنی میں 9 مارچ 2021 کو چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ھے لیکن تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکاھے ملازمین کے گھرانوں اور مری کی جملہ سیاسی سماجی اورکاروباری تنظیموں نے بھی وزیراعظم عمران خان اور گورنر پنجاب و چانسلر کوہسار یونیورسٹی مری چوہدری محمد سرور سے ریسورس انٹرنیٹ ایڈمن بلاک کوہسار یونیورسٹی مری کے 21 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ملازمین کو فوری تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیاھے جبکہ متاثرہ ملازمین نے وزیراعظم عمران خان اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرورجوکوہساریونیورسٹی کا افتتاح کرنے آتے ہیں توان سے اپیل کی ہے کہ وہ ان ملازمین کی تنخواہوں کی فوری ادائیگی کے احکامات صادر فرمائیں تاکہ ملازمین قرض کے بوجھ تلے سے نکل سکیں اوران کے والدین اوربیوی بچے بھی عیدالفطر کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں۔