murree Land Record Center 163

مری اراضی ریکارڈ سنٹر میں آنے والے سائلین کے ساتھ عملے کی جانب سے ناروا سلوک کیا جانے لگا

مری اراضی ریکارڈ سنٹر میں آنے والے سائلین کے ساتھ عملے کی جانب سے ناروا سلوک کیا جانے لگا، اراضی ریکارڈ سنٹر کرپشن کا گڑھ ،رشوت کے بغیر کام ناممکن اراضی ریکارڈ سنٹر مری میں فرد ملکیت کا حصول ،انتقال اور دیگر معاملات بغیر رشوت کے بغیر ممکن نہیں ہے،تفصیلات کے مطابق مری میں لینڈریکارڈ سنٹر کے افسران نے سنٹر کی چار دیواری کے اندر اپنے کارندے بیٹھا رکھے ہیں ،جن کی من مانیا اپنے عروج پر عوام کی شکایات کے بعد جب میڈیا نے ریکارڈ سنٹر مری کا وزٹ کیا تو جھوٹ اور سچ کا پردہ فاش ہو گیا ،سنٹر کے اندر اے ڈی ایل آر کی سیٹ پر تعنیات میڈم سعدیہ اختر اپنی سیٹ کا ناجائز فائدہ اٹھانے لگی اور اس کے ساتھ غیر ذمے داری کا مظاہرہ بھی سب سے پہلے اراضی ریکارڈ سنٹر میں کورونا ایس او پیز کی خلاف وارزیاں اور فون کال پر خوش گپیاں۔آفس میں آنے والے سائلین فرد کی انفارمیشن کے حوالے سے جب کوئی سوال کرتے ہیں تو انھوں بدتمیزی سے چپ کروا کے آفس سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔مری کے دور دراز کے دیہی علاقوں سے آنے والے غریب لوگ ریکارڈ سنٹر کے اندر بیٹھے عملے کی بد اخلاقی کو دیکھ کر انتہائی مایوس ہو جاتے ہیں،انھیں چھوٹے ملازموں کی ایسی حرکتوں کی وجہ سے محکمہ بدنام ہو رہا ہے ،عوام کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ہماری سہولیات کے لیے اراضی ریکارڈ سنٹر بنائے ہیں تو اس میں اچھے اخلاقی اور اپنی ذمہدارای کو سمجھنے والے عملے کو تعنیات کیا جائے ۔تا کہ عوام مشکلات سے بچ سکے ۔عوام نے اسسٹنٹ کمشنر مری ،ڈی سی او روالپنڈی اور وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر مری لینڈ ریکارڈ عملے کا قیبلہ درست کیا جاۓ اور غیر ذمہداران بداخلاق ملازمین کو یہاں سے تبدیل کر کہ ان کی جگہ فرض شناس افراد کو تعینات کیا جاۓ۔۔