bhu murree01 111

مری میں بنیادی صحت یونٹ اور ڈسپنسریاں عدم توجہ کا شکار

مری میں بنیادی صحت یونٹ اور ڈسپنسریاں عدم توجہ کا شکارذرائع کے مطابق تحصیل مری میں چودہ بنیادی صحت یونٹ اور ڈسپنسریاں قائم ہیں جو کہ غریب عوام کو بنیادی صحت مہیا کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں لیکن ان ڈسپنسریوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے لیکن بہت ہی افسوس کے ساتھ مختلف جگہوں پر بی ایچ یو تو بنائی گئی ہیں لیکن وہاں پر کوئی بھی سہولیات میسر نہیں ہے بی ایچ یو میں اگر ڈاکٹر ہیں تو ادویات نہیں ہیں ادویات ہیں تو ڈاکٹر موجود نہیں ہیں ڈاکٹر ادویات موجود ہیں تو ملازمین کی تعداد انتہائی کم ہے اور کہیں ایسی بنیادی صحت یونٹ ہیں جہاں پر ملازمین اپنی پوری تنخواہیں تو لے رہے ہیں جبکہ ذرائع کے مطابق دھوبی گھاٹ ، سنی بنک ، اور دھار جاوا میں ڈسپنسری پر عرصہ دراز سے تالے لگے ہوئے ہیں جبکہ ذرائع کے مطانق مسیاڑی میں بھی ڈسپنسری کھل تو رہی ہے لیکن عدم توجہ کا شکار ہے ذرائع کے مطابق جن ڈسپنسریوں کو تالے لگے ہوئے ہیں اُن ڈسپنسریوں کے اندر پڑی ہوئی تمام چیزیں زنگ آلودہ ہو کر رہ گئی غریب عوام صحت کے بنیادی حق سے محروم ہو کر رہ گئی اس کے ساتھ ہیلتھ کے تمام ورکر رشوت کے دم پر اپنی مرضی سے کام کر رہے ہیں یعنی جنرل ڈیوٹی کی جا رہی ہے عوام کی شکایات پر جب میڈیا نے آواز اٹھائی تو ڈپٹی ہیلتھ آفس کے اندر بیٹھے ہوئے چند عناصر ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے مالک بن گئے اور اپنا موقف دینے سے انکار کرنے لگے اب میڈیا کا سوال ڈپٹی ہیلتھ آفیسر سے یہ ہے کہ اگر ان کے دلوں میں چور نہیں تو پھر یہ سچ بولنے سے کیوں ڈر رہے ہیں ہرماہ ادویات ، ٹی اے ڈی اے اورتنخواہوں کی مد میں بڑی تعداد میں رقم سرکاری خزانے سے نکال لی جاتی ہے ملازمین اپنی تنخواہیں حاصل کرنے کے لیے سرکار کو بلیک میل کرنے کے لیے احتجاج تو کرتے ہیں لیکن غریب عوام کے لیے ان کی کارکردگی انتہائی مایوس کُن ہے اگر یہاں پر ہیلتھ انسپیکٹروں کی بات کرے توعرصہ دراز سے مری میں تعنیات ہیں مری میں کیمیکل سے تیار شدہ دودھ آلودہ پانی کی سپلائی اور مضر صحت گوشت کی فروخت جاری ہے لیکن ہیلتھ انسپیکٹر کاغذی کاروائی تک ہی محدود ہے وزارت صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد اور سی او ہیلتھ ڈاکٹر فائزہ کنول کو مری میں بنیادی صحت مرکز کی خستہ حالی کا نوٹس لینا چاہیے اور تحصیل مری کی بیسک ہیلتھ یونٹ کاوزٹ کیاجائے بہت جلد ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا عملہ ڈاکٹر اور آفیسر کہاں کہاں تعنیات ہیں اور اپنی ڈیوٹیوں کو کیسے سر انجام دے رہے ہیں اخبار کی زینت پر لایا جائے گا