* Department of Agriculture 60

مری میں‌محکمہ زراعت سفید ہاتھی بن چکا ہے،،،

ملکہ کوہسار مری جہاں ماضی میں بہترین ذائقہ دارخوبصورت سیب،ناشپاتی،آلو بخارا،آڑو اور دیگر پھل وافرمقدارمیں پیداہوتے تھے تحصیل بھر کے بازار وں میں وافر اورکم قیمت میں عوام کو پھل دستیاب ہوتے تھے پورے ملک کے علاوہ دنیابھر میں مری کا سیب،دیگر پھل اور لذیز سبزیاں شوق سے استعمال کی جاتی تھیں لیکن محکمہ زراعت مری کی عدم توجہی اور بے حسی کے باعث پھلوں اورسبزیوں کی کاشت مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے جبکہ محکمہ زراعت اب سفید ہاتھی بن چکا ہے نہ تو کاشتکاروں کو جدید علوم اور اچھے بیجوں سے آگاہی دی جاتی ہے اورنہ ہی سیب کے پودوں کیلئے جال فراہم کئے جاتے ہیں سنی بنک مری میں محکمہ زراعت کے پاس سینکڑوں کنال اراضی اورزرعی تحقیقاتی سنٹر موجود ہے لیکن کارکردگی صفر ہے درجنوں ملازمین کی تنخواہیں دی جاتی ہیں اور افسران کیلئے ریسٹ ہاؤس تو ہیں لیکن زراعت کے حوالے سے کوئی بھی کام نہیں ہورہا،ماضی میں زراعت سے جہاں مقامی کاشتکار محکمہ زراعت کے تعاون اورمددسے لاکھوں روپے کے پھل فروٹ اورسبزیاں اگاتے تھے اورکثیر سرمایہ بھی حاصل کرتے تھے اب وہ وقت ایک خواب بن چکا ہے مقامی کاشتکاروں ار عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مری جیسی زرخیز زمین کو اگر جدید طریقے سے پھلوں اور سبزیوں کی کاشت کیلئے استعمال کیاجائے تواس سے جہاں کاشتکاروں کو معاشی حالت بہترہوسکتی ہے وہاں روزگارکے مواقع بھی مل سکتے ہیں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ محکمہ زراعت مری کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اسے فعال کرنے کے فوری اقدامات کئے جائیں تاکہ یہاں کی زراعت بہترہوسکے اور محکمہ زراعت مری کی لاپرواہی کا فوری نوٹس لیاجائے۔