Murree THQ Hospital 85

مری ٹی ایچ کیو ہسپتال میں آنے والے مریضوں کے لیے وبال جان بن گیا

مری ٹی ایچ کیو ہسپتال آنے والے مریضوں کے لیے وبال جان بن گیا ہسپتال کا عملہ پیرامیڈیکل سٹاف اور کلاس فور ملزمین اپنی من مانیا کرنے لگے سفارشی عوام کو فورا چیک اب کے لیے بھیج دیا جاتا ہے جبکہ عام عوام کو گھنٹوں گھنٹوں انتظار کی قطار میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔او پی ڈی اور گارنیا واٹ کے باہر لگی ہوئی لمبی قطاریں عملے کے حکم کی مختاج ہو کر رہ گئی،مری تحصیل ہیڈ کواٹر ایک سرکاری ہسپتال ہے اور ا ن تمام غریبوں کے لیے ہے جو پرائیوٹ کلینک اور ہسپتالوں کی بھاری فیس ادا نہیں کر سکتے۔یہ تمام خاص و عام کے لیے برابر ہے جبکہ ہسپتال کا عملہ آنے والے سائلین کی مشکلاتوں اور تکلیفوں کو مزید بڑھا دیتا ہے ان سے بدتمیزی کر کے اور بد اخلاقی سے پیش آکر ایک ڈاکٹر کی ٹرینیگ کا یہ بھی ایک حصہ ہوتا ہے کہ جب آپ کے پاس کوئی مریض آئے تو اس سے پیار اور شفقت سے پیش آیا جائے جب عملہ یا ڈاکٹر مریض سے پیار سے بات کرتے ہیں تو اس سے مریض کی آدھے سے زیادہ تکلیف کم ہو جاتی ہے۔لیکن ٹی ایچ کیو کا عملہ انتہائی جاھل اور بدتمیز ہے جو کہ ایم ایس اور ڈاکٹروں کی بدنامی کا باعث بنتا جا رہا ہے،ہسپتال میں عالج معالجاء کے لیے آنے والے مریضوں اور ان کے لواحقین نے ایم ایس مری اور سی او ہیلتھ فائزہ کنول سے نوٹس لینے کا مطابعہ اور ان ملزمین کے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے کی اپیل