Murree water shortage 43

مری میں پانی کی شدید قلت

مری میں پانی کی شدید قلت ملکہ کوہسار میں بسنے والے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترسنے لگے اسسٹنٹ کمشنر مری وقاص حسین اور انتظامیہ مکمل طور پر ناکام لاکھوں سیاحوں اور مری کے رہائشی پانی بحران سے شدید مشکلات سے دوچار سیاحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جبکہ مری میں پانی بحران شدت اختیار کرگیا کئی علاقوں میں گذشتہ کئی دنوں سے پانی کی فراہمی مکمل بند ہے جس کے باعث شدید سردی میں شہری،سیاحتی اور کاروباری حلقے شدید مشکلات سے دوچار ہیں لوگ پانی کی بوند بوندکو ترس گئے ہیں پانی بحران کی بڑی وجہ مری میں موجود پانی کے ذخیرے جن سے پمپنگ کرکے کشمیر پوائنٹ کے تالابوں میں پہنچایا جاتا ہے جو بجلی سے چلتے ہیں ایسے میں میونسپل آفیسر انفراسٹکچر جو سیکرٹری جوائنٹ واٹر بورڈ مری بھی ہے کی تعیناتی نہ ہونے سے بجلی کے بلوں کی ادائیگی سمیت موٹروں اور پمپوں کی نہ تو مرمت ہورہی ہے اور نہ ہی کوئی بھی ٹھیکیدار کام کرنا چاہتا ہے کیونکہ ایم اوآئی کی تعیناتی کے بغیر نہ تو موٹروں اور پمپوں کی مرمت کی ادائیگی ممکن ہیں اورنہ ہی ٹھیکیداروں کی ادائیگی ہوسکتی ہیں جسکے باعث تحصیل انتظامیہ مری اور پبلک ہیلتھ شدید پریشانی سے دوچار ہیں،جبکہ مری کو پانی فراہم کرنا والا ڈونگاگلی کامنصوبے میں بھی رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں اور محکمہ وائلڈ لائف کے پی کے میونسپل کمیٹی کی ٹنل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور کمرشل استعمال کرناشروع کردیا ہے جبکہ قانونی طور پر ڈونگاگلی واٹرسپلائی سکیم سمیت یہ ٹنل جوائنٹ واٹر بورڈ مری کی ملکیت ہے،دھارجاوا واٹرسپلائی سکیم جو پانچ سٹیجوں پر مشتمل ہے یہ واٹر سپلائی سکیم مری میں ریڑھ کی ہڈی جیسی حیثیت رکھتی ہے یہ سکیم بھی اگر ٹھیک طریقے سے چلے تو تقریباً دس لاکھ گیلن پانی کشمیر پوائنٹ کے تالابوں میں آسکتا ہے جبکہ اس سکیم سے آجکل بمشکل ساڑھے تین لاکھ یاچارلاکھ گیلن پانی کشمیر پوائنٹ کے تالابوں میں آرہا ہے جبکہ باقی سکیمیں جن میں ڈونگاگلی،مسوٹ وغیر ہ شامل ہیں بند ہیں اور دھارجاوا سے آنیوالے پانی سے مری آرمی اور سول ایریاز کی سپلائی پوری کرنے کیلئے ناکافی ہے 5 ماہ سے ایم اوآئی جو سیکرٹری جوائنٹ واٹربورڈ بھی ہوتا ہے اس عہدہ پر کوئی بھی آفیسر تعینات نہ ہوسکا ہے جسکے باعث واٹرسپلائی مری کے معاملات بہت زیادہ خراب ہوچکے ہیں،کسی بھی سکیم کی کوئی موٹر یاپمپ خراب ہوجائے تو فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے کوئی کام نہیں ہوسکتا اب صورتحال انتہائی پچیدہ ترہوگئی ہے،کشمیر پوائنٹ کے تالابوں میں 94 لاکھ گیلن سٹور ہوتا ہے جبکہ ان دنوں صرف 14 لاکھ گیلن پانی ہے جو جو ڈیڈلیول سٹوریج ہے  جبکہ ان دنوں مری میں 14 لاکھ گیلن پانی دیاجانا ضروری ہے لیکن خراب صورتحال اور درپیش مسائل کی وجہ سے چار سے پانچ لاکھ گیلن سپلائی کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے اگر یہی صورتحال رہی تو بجلی کے بلوں کی ادائیگی اورموٹروں،مشینوں کی مرمت نہ ہوسکے گی ایسے میں اس اہم ترین سیاحتی مقام پر پانی سپلائی ممکن نہ ہوگی جس سے ملکہ کوہسارمری کی سیاحت پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اس سلسلہ میں اعلیٰ حکام فوری اقدامات کریں تاکہ اس صورتحال سے بچاجاسکے۔