WAPDA 21

مری میں حالیہ ہونے والی  برفباری نے واپڈا کی کارگردگی کا پول کھول کر رکھ

مری میں حالیہ ہونے والی  برفباری نے واپڈا کی کارگردگی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے موسم سرما کے آغاز سے پہلے واپڈا مری کی طرف سے شاخ تراشی اور منٹینس کے نام پر مختلف اوقات میں سارا سارا دن بجلی بند رکھ کر مری کی مقامی آبادی اور مری آئے ہوئے  سیاحوں کو اذیت سے دوچار کیا جاتا رہا لیکن دوسری طرف مری میں معمولی سی ہوا چلنے اور  برفباری شروع ہونے کے بعد بجلی کی آنکھ مچولی شروع ہو  جاتی ہے  جس کی وجہ سے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ سیاحوں کی مشکلات اضافہ ہو جاتا ہے جبکہ واپڈا کی طرف سے ہر ماہ عوام کو بھاری برقم بجلی کے بل ارسال کر دئے جاتے ہیں لیکن بجلی کی فراہمی کو اکثر بیشتر معطل رکھا جاتا ہے اور گزشتہ دنوں ہونے والی برف باری کے بعد بعض علاقوں میں دو دن بجلی بند رہی اور نیو مری کے علاقہ میں جہاں برف باری بھی نا ہوئی وہاں کی لائٹ بھی بند رہی جو واپڈا مری کے صارفین کے ساتھ ناانصافی اور واپڈا مری کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے شہر اور گردونواح گھروں کی بجلی خراب ہونے پر واپڈا ملازمین بجلی ٹھیک کرنے کے دو ہزار روپے ڈیمانڈ رکھ دیں جی پی او چوک مری میں کمپلینٹ آفس میں بیٹھے ملازمین کمپلین اگر آجائے تو اس سے گاڑی یا پیسوں کی ڈیمانڈ کی جاتی ہے ایس ڈی او واپڈا آفس پنڈی پوائنٹ سے جب رابطہ کیا گیا تو اس نے موقف دینے سے انکار کر دیا پاکستان کا خوبصورت ہل سٹیشن جہاں پر دنیا بھر سے سیاح کثیر تعداد میں سیر و تفریح کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں لیکن بجلی کا نظام انتہائی مایوس کر واپڈا کی نااہلی کے باعث موجودہ حکومت سوالات اٹھنے لگے  اہلیان مری سمیت  تاجروں اور مری آنے والے سیاحوں  نے اعلیٰ حکام  سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے