Sadaqat Ali Abbasi 21

مری،کلر سیداں،کوٹلی اور کہوٹہ کی ترقی اورمسائل کے حل کیلئے منصوبوں کو حتمی شکل

مری پاکستان تحریک انصاف شمالی پنجاب کے صدر وممبر قومی اسمبلی حلقہ این اے 57 صداقت علی عباسی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنے حلقے مری،کلر سیداں،کوٹلی اور کہوٹہ کی ترقی اورمسائل کے حل کیلئے منصوبوں کو حتمی شکل دینے کیلئے پنجاب حکومت سے لاہورمیں رابطے کرنے میں گذشتہ کئی دنوں سے مصروف رہے، حلقے کے منصوبے جن میں گیس،پانی اور ترقیاتی منصوبے،صحت اور تعلیم کے معاملات شامل ہیں،ان اہم منصوبوں میں ٹورازم ہائی وے جو لوئر ٹوپہ سے پتریاٹہ نیومری جائیگا اورجو پتریاٹہ چیئرلفٹ اس کو بائی پاس کرتے ہوئے کوٹلی ستیاں جائیگا اوروہاں سے ہوتا ہواپنج پیر، نڑھ اور وہاں سے پنجاڑ کے راستے کہوٹہ کے بڑے حصے کو اور کلرسیداں کوٹچ کرتاہوا ساگری اورروات کے مقام پرملے گا اورجو ٹورسٹ ان علاقوں میں آئینگے انکو پوری پیکچ ڈیل ملے گی اور انشاء اللہ آنے والے سالوں میں ہمارے ان علاقوں میں جہاں نہ کبھی زراعت ہوسکتی ہے اور نہ کبھی انڈسڑی لگ سکتی ہے اس لئے یہاں کے عوام کی زندگیاں بہتربنانے کیلئے ان کے کاروباری اورروزگارکے مواقع فراہم کرنے کیلئے ایک بہترین موقع ملے گا کیونکہ یہ علاقہ جو ہمیشہ نظر انداز تھا آنے والے دنوں اورسالوں میں بہت ترقی ملے گی اور علاقے کی تقدیربدل جائیگی اس سلسلے میں ہم ایک پوراپیکج دینگے جو مری سے کوٹلی ستیاں اورکوٹلی ستیاں سے کہوٹہ کو لنک کریگا،دوسرا ایک غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے کہ مری مال روڈ2 کے حوالے سے یہ کوئی ایسامنصوبہ نہیں ہے جوحکومتی فنڈنگ سے یاکسی طرح سے لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کرکے ان کو بے دخل کرکے انکانقصان کرکے کیاجائے ایسا کچھ نہیں ہوگا یہ صرف ایک روڈ بننی ہے جس کو فنڈنگ سرکار سے نہیں ہوگی بلکہ پبلک پرائیوٹ پاٹنرشپ میں ہوگی اور بہت سا پبلک سیکٹر اس میں دلچسپی لے رہا ہے اور کوشش ہوگی کہ 99 فیصدمقامی لوگوں کی زمینوں کو نقصان نہ پہنچ سکے صرف راستہ لیاجائے اوراس راستے کے اردگر جو کسی دوکان ہے گھر ہے وہ اپنا گھر رکھناچاہے،اپنی کوئی دوکان بنانا چاہے،اپنی پراپرٹی پر ہوٹل یاریسٹورنٹ بنانا چاہتا ہے یا وہ اس کو لیز یارینٹ پردیناچاہتا ہے کسی قسم کی کوئی پابندی ہے نہ ہی حکومت کسی طرح کسی کی جائیداد خرید کر اسے آگے فروخت کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے جو بھی غلط فہمی،ابہام یا غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں اسکو اپنے ذہنوں سے نکال دیں ہمارا کوئی یہاں پرذاتی مفاد نہیں ہے نہ ہی کوئی ذاتی زمین ہے اورنہ ہی یہاں ہماراکوئی کاروبارہے یہ منصوبہ صرف علاقہ کے عوام کی زمینوں اہمیت کو بڑھانے اور کاروباری مواقع فراہم کرنے کی ایک کوشش ہے اور میرے حلقے میں بیروزگار لوگوں کو روزگاردینے کی کوشش ہے مقامی لوگوں سے رابطے کرکے انکی مشاورت سے اس منصوبے کی تجویزکوحتمی شکل دی جائیگی کیونکہ یہ علاقہ ابھی تک کمرشل نہیں ہے اورجویہاں کمرشل عمارتیں بنی ہیں اگر کمرشل نہ کیاگیا تو ان کی تعمیرات پر پابندی لگ سکتی ہے تمام بنی ہوئی عمارتوں کو قانونی شکل دی جائیگی اس علاقے کے لوگوں کی زمینوں کی قیمتوں میں کئی گناہ اضافہ ہوجائیگا،کوہسار یونیورسٹی کے حوالے سے بھی غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں اور ماضی کی حکومتوں نے کوئی یونیورسٹی یاکالج نہیں بنایاگیا عوام میں غلط فہمی پھیلائی گئی اور مستر شدہ لوگوں نے احتجاج کیا اور رٹ بھی کی کوہسار یونیورسٹی بھی ملک کی دیگر یونیورسٹیوں کی طرح کام کریگی ہم اپنے خطہ میں عوام کو اعلیٰ تعلیم دینے کی کوشش کررہے ہیں کوہسار یونیورسٹی فروری میں اپنا کام شروع کردے گی جسکے قیام سے مری،کہوٹہ،کوٹلی ستیاں،کلر سیدان،ہزارہ،آذادکشمیر اور دیگر ملحقہ علاقوں کیلئے ایک بڑی خوشخبری ہے کہ طلباء وطالبات کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع میسر ہونگے،صداقت علی عباسی نے کہا کہ انہوں اب تک 1016 عوامی فلاحی ترقیاتی منصوبے شروع کررکھے ہیں جن میں سے 70 فیصدمنصوبے مکمل ہوچکے ہیں میں علاقہ کی تعمیروترقی اور مسائل کے حل کیلئے ہمیشہ جدوجہدکررہاہوں اورکرتارہونگی۔