Action committee 14

ڈنہ اورارواڑی مری کے مقامی لوگوں کی زمینیں چھین کر نیومال روڈ 2 بنانے کا منصوبہ

مری ڈنہ اورارواڑی مری کے مقامی لوگوں کی زمینیں چھین کر نیومال روڈ 2 بنانے کا منصوبہ لوگوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کی غیر قانونی اور شرمناک کوشش ہے ہم 200 سال سے زائد عرصہ سے یہاں مقیم ہیں ہم کسی ایسے منصوبے کو یہاں نہیں بنانے دینگے چاہے اسکے لئے ہمیں خون بھی بہانا پڑے ہمارے آباء واجداد کی وراثتی زمینیں ہیں اور ہمارے آباء و اجداد کے قبرستان ہے جن پر قبضہ کرکے سرمایہ داروں کو فائدے پہنچانے کی کوشش بیوروکریسی کاسازش ہے جو کو ہم ہرصورت ناکام بنایاجائیگا مری کا تاریخی مال روڈ ایک اہمیت کاحامل ہے جس کو مزید بہترکرکے سیاحوں کو وہاں رسائی دینے کی منصوبہ بندی کرنے کی ضرور ت ہے اور اگرحکومت پنجاب اورکمشنر راولپنڈی کوئی نیاٹریک بناناچاہتے ہیں تو مری میں بیشمار سرکاری اراضی موجود ہے اور کئی خوبصورت جگہ کوٹلی ستیاں،کروڑ،چارہان اوردیگر علاقوں میں مال روڈ 2 بنایاجاسکتا ہے سینکڑوں لوگوں کو بے گھر کرنا قابل برداشت نہ ہے ان خیالات کا اظہار ڈنہ اور ارواڑی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں اسد اقبال عباسی ایڈووکیٹ،شوکت علی عباسی،میجر (ر) امجد،کامران عباسی،عمر حیات عباسی،منصور سہراب،مستفیض عباسی اور دیگر نے مری میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی وراثتی زمینوں پررہنے کا حق حاصل ہے اور کوئی بھی ادارہ یا شخص ہم سے یہ حق چھینے کاجرآت نہیں کرسکتا نیومال روڈ2 کے نام پر ہم سے ہماری آبائی زمینیں چھیننے کی سازش کی جارہی ہے مذکورہ علاقہ کے چاروں اطراف مقامی آبادی ہے جو یہاں کئی دہائیوں سے آباد ہیں اور کاروبارکرکے اپنی زندگیاں گزاررہے ہیں یہاں کی مقامی آبادی سے زمینیں چھین کر سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے اوربیوروکریسی نے ایک نوٹفیکیشن جاری کرکے اس علاقہ میں تعمیرات پر پابندی عائد کردی ہے جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ 11 نومبر 2020 کو جاری کئے گئے نوٹیفکیشن کو 24 گھنٹوں کے اندر واپس کیاجائے بصورت دیگر شدیداحتجاج سمیت دیگر آپش پر عملدرآمدکیاجائے گا ایکشن کمیٹی کاکہناتھا کہ سیاسی قیادت سے زیادہ بیوروکریسی اس منصوبے پر زیادہ کام کرکے کچھ لوگوں کو فائدہ پہنچانے میں ملوث ہے ہم کمشنر راولپنڈی اور اسسٹنٹ کمشنر مری سے ملاقات کرکے حقائق سے آگاہ کیاتھا لیکن کمشنر بھی اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے میں حد سے زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہماری زمینیں لینڈمافیاء کو دئیے جانے کی کوشش کی ہم شدید مذمت کرتے ہوئے اس منصوبے کو فوری روکے جانے کامطالبہ کرتے ہیں اور تعمیرات او رانتقال پر پابندی فوری ہٹائی جائے حکومت ایک طرف لوگوں کولاکھوں گھر دینے کے وعدے کررہی ہے تو دوسری طرف غریب لوگوں سے انکے گھر چھیننے کی کوشش کررہی ہے ہم عدالت کادروازہ کھٹکانے سمیت دیگر تمام آپش استعمال کرینگے نیومال روڈ2 سرکاری اراضی پر بنایاجائے پریس کانفرنس میں اہلیان ڈنہ اور ارواڑی کے لوگوں کی کثیرتعداد بھی موجود تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں