Saqib Shaheed Road MIT 19

سینکڑوں سال پرانے قیمتی اور نایاب درختوں کی کٹائی کیسی ستم ظریفی ہے

مری قیمتی اور نایاب قومی اثاثہ مری کے سینکڑوں سال پرانے قیمتی اور نایاب درختوں کی کٹائی کیسی ستم ظریفی ہے کہ اک طرف گرین پاکستان کے نام پر دن منائے جا رہے ہیں اورشجر کاری کی ضرورت پر زوردیاجارہا ہے جبکہ دوسری طرف مری میں درختوں کی کٹائی اس طرع ہورہی ہے جیسے گاجر مولی کاٹی جاتی ہیں بااثر افراد اگر درخت کاٹیں تو محکمہ جنگلات کے ذمہ داران کی منطق بھی عجیب ہے پہلے درختوں کو ملی بھگت سے کٹواتے ہیں اور پھر معمولی جرمانہ کر جان چھڑالیتے ہیں اور جب جواب مانگاجائے تو کہتے ہیں کہ درخت کاٹنے والے کو جرمانہ کر دیا ہے جبکہ ہونا تو یہ چائیے کہ جو درخت کاٹنے والوں کیخلاف ایف آئی آردرج کرکے انکو گرفتار کیا جائے مگر محکمہ جنگلات مری کو کوئی بھی پوچھنے والا نہیں جو جرمانے کئے جاتے ہیں ان میں انکی اپنی کمیشن بھی شامل ہوتی ہے مری امپرومنٹ ٹرسٹ سمیت مری میں سرسبز اور قیمتی درختوں کی کٹائی کاسلسلہ جاری کیاوزیر اعظم عمران خان کا ترین پاکستان وژن یہی ہے مری کے جنگلات سے محبت کرنے والوں نے تمام اہلیان مری سے اپیل کی ہے کہ وہ وزیراعظم پورٹل پر جنگلات کی بے دریغ کٹائی اورتباہی کی شکایات بھیجیں تاکہ پتہ چل سکے کہ گرین پاکستان کانعرہ لگانے والے کوئی ایکشن لیتے ہیں یا یہ بھی صرف ایک ڈرامہ ہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں