Municipal elections 11

مری بلدیاتی انتخاب کی ہوائیں سیاسی جماعتوں کے قائدین کے لیئے خطرے

مری بلدیاتی انتخاب کی ہوائیں سیاسی جماعتوں کے قائدین کے لیئے خطرے کی علامت۔ماضی کی تاریخ دوہرائی جا سکتی ہے۔ختم نبوت۔تعلیمی نصاب۔تبلیغی جماعت کے خلاف کی جانے والی سازشیں موجودہ ترقیاتی کام عوام کا غم و غصہ ختم نہیں کر سکتے۔تفصیلات کے مطابق مری کی پندرہ یونین کونسلز میں آمدہ بلدیاتی انتخابات میں امیدواروں کا چناؤ بہت بڑی مشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے جس میں سب سے زیادہ پریشانی حکمران جماعت کے لیئے نظر آتی ہے جس کے تحصیل پھر کی پندرہ یونین کونسلز کے ایک ایک وارڈ میں کئی کئی گروپس ہیں اگر حکمران جماعت نے ہوش کے ناخن نہ لیئے تو مسلم لیگ کے نام سے موجود سیاسی جماعتیں جو ق اور ن لیگ کے نام سے مشہور ہیں عوام ان کے قافلے کا حصہ بن سکتی ہے بلدیات میں ٹکٹس کی تقسیم تمام جماعتوں کے لیئے بہت بڑا امتحان ہے جو ہر مقامی قائدین کے لیئے بہت بڑا درد سر ثابت ہو گا۔اسوقت بلدیات کے سب سے ماہر کھلاڑی ماسواۓ یونین کونسل پھگواڑی کے حکمران جماعت کا حصہ ہیں مگر حلقہ کی اندروانی سیاست میں صاف نظر آنے والا انتشار اگر ختم نہ ہوا تو سیاسی جماعتوں کو شرمندگی کا ہی سامنا ہوگا جبکہ مضبوط حریف مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کے ساتھ تحریک لببیک اور عزم انقلاب گروپ ثابت ہو گا جبکہ لوہر بلٹ کی یونین کونسلز میں جنرل الیکشن کی طرح بلدیات میں بھی ستی کیھٹوال۔چوہدری برادریوں کے لوگ نئے چہرے یا پرانے دلیر لوگوں کو سامنے لانا پسند کریں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں