Agriculture 14

زراعت اور کاشتکاری چھوڑ چکے ہیں

مری محمدایثارریاض عباسی اور دیگراہلیان علاقہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ لمحہء فکریہ ہے کہ ملکہ کوھسار مری،گلیات، سرکل بکوٹ او ردیگر پہاڑی علاقوں اور گاؤں دیہاتوں میں پہلے ہی لوگ زراعت اور کاشتکاری چھوڑ چکے ہیں لیکن جو تھوڑی بہت زراعت بچی ہے اسکے مکمل خاتمے کا اندیشہ اس موذی جانورجنگلی سورؤں کی وجہ سے پیدا ہوچکا ہے جب زمیندار اپنی زمینوں کو محنت کرکے تیار کرتے ہیں اور کافی محنت اورخرچہ کر کے فصلیں کی کاشت کرتے ہیں اور فصل تیار ہونے سے پہلے ہی یہ سوؤر حملہ کر کے فصلوں کوتباہ کر دیتے ہیں یہ بڑی تعداد میں رات کے پچھلے پہر حملہ کرتے ہیں اور فصل تباہ کر جاتے ہیں اور انہیں اگر مار دیں تو الگ وبال اسکو ٹھکانے لگانا اور بھی مشکل ہوتا ہے انہوں نے حکومت،محکمہ وائلڈ لائف اور دہگرمتعلقہ اداروں سے اپیل ہے یہ بہت سنگین مسئلہ بن چکا ہے ہماری کاشتکاری ختم ہوچکی ہے خدارا اس موذی جانور سے ہماری جان چھڑائی جائے یہ صرف حکومت ہی کر سکتی ہے انک کو تلف کرنے کی ایک مہم چلائی جائے تاکہ انکا خاتمہ ہو اور ہم اپنی فصلیں کاشت کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں