GPO murree 8

مری میں جائیداد کی خریدو فروخت میں تیزی

مری کورونا کے بعد مری میں جائیداد کی خریدو فروخت میں تیزی تاہم تحصیل ٹیکس کے باعث عوام ہنوز تذبذب کا شکارحکومت کی جانب سے مارچ 2020 میں کورونا وباء پھوٹتے ہی حکومت نے ایس آر او کے ذریعے جائیداد کی خریدو فروخت، حبہ، اور دیگر تبدیلی ملکیت سے متعلق وثیقہ جات پر بڑے پیمانے پر ٹیکسز کی مد میں کمی تاکہ متوقع معاشی جمود کو قدرے کم سے کم رکھا جاسکے بعد ازاں بجٹ میں بھی فنانس بل کے ذریعے حالیہ مالی سال میں کم کی گئی شرح کو بدستور بحال رکھا گیا عید الاضحی کے بعد حالات بتدریج بہتر ہونے پر کاروباری معاملات اور خاص طور پر جائیداد کی خریدو و فروخت میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا قبل ازیں جائیداد خریدار پر پانچ فیصد کی شرح سے وصول ہونے والے ٹیکسز کو کم کرکے دو فیصد کیا گیا اور اسی طرح مابین خاندان حبہ کو تین فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کیا گیا صوبائی حکومت کے ان تمام اقدامات کے باوجود تحصیل کونسل ٹیکس کی مد بھی ایک فیصد ٹیکس وصول کیا جارہا ہے کہ موجودہ تناظر میں خود سے ایک بہت بڑی شرح ہے اس سے قبل خاندان اور خونی رشتوں میں حبہ کرنے والے افراد تین فیصد شرح ٹیکس کی وصولی بشمول ایک فیصد تحصیل ٹیکس کل ملا کر چار فیصد پر بہت حد تک مشکلات کا شکار تھے کہ جب حبہ کی صورت میں نقد رقم کی ادائیگی کا معاملہ شامل نہیں تو ٹیکس کس لئے جس کی وجہ وہ بزرگ جو ورثاء کو تنازعات سے بچانے کی خاطر اپنی زندگی میں ہی اپنی املاک ہبہ کی صورت میں اپنے بچوں میں تقسیم کرنا چاہتے تھے اس غیر معمولی شرح ٹیکس کی وجہ سے ہبہ نہ کر سکتے تھے حکومت کی طرف سے شرح محصولات کم کرنے پر ہبہ کی مد میں صرف ایک فیصد ٹیکس رہ گیا ہے جو کہ پھر بھی قدرے قابل قبول ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ مزید ایک فیصد ٹیکس بصورت تحصیل ٹیکس نے صورتحال تقریبا پہلے جیسے ہی کر دی ہے اور لوگ ہبہ نامہ جات رجسٹر نہیں کروا پا رہے ہیں اس سلسلے میں رائے فروغ پا رہی ہے اور عوام کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے کہ جہاں صوبائی حکومت نے بھی اپنے محصولات تقریبا دو تہائی کم کردیئے ہیں اسی طرح تحصیل ٹیکس کو بھی اگر ختم نہ بھی کیا جائے تو دیگر شرح کے مطابق اس بھی کم کیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں