Fahad Shoket 11

ہزارہ کے علاقہ تھانہ بکوٹ میں شہر یار تشدد کیس،،،،

مری ہزارہ کے علاقہ تھانہ بکوٹ میں شہر یار تشدد کیس میں بیگناہ ملوث کئے جانے والے نوجوانوں کا اپنے علاقہ دیول مری کے معززین کے ہمراہ مری پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فہد شوکت اور حریرہ راشد نے کہا کہ ہمیں اس کیس میں بیگناہ ملوث کیاجارہا ہے جبکہ ہمارا س کیس سے کوئی بھی تعلق واسطہ نہ ہے پہلی ایف آئی آر میں مدعی شہریار نے سات افراد کو نامزد کیا تھا جن میں دیول کی بااثر سیاسی شخصیت کے بھانجوں مفتی افضال اور بلال شامل تھے جنہیں بعد ازاں پہلی ایف آر کے ایک ماہ کے بعد 164 کے بیان میں انکو چھوڑ کرملی بھگت سے ہمیں نامزد کیاگیا جو ہمارے ساتھ سراسر زیادتی ہے کیونکہ ہم غریب اوردیہاڑی دار ہیں جس کی گواہی ہمارے ساتھ آئے ہوئے معززین علاقہ ہیں فہد شوکت اور حریرہ راشد نے کہا کہ اس معاملہ کو سیاسی رنگ دیکر ہمیں پھنسایا جارہا ہے کیونکہ میں ٹائیگر فورس کا رضا کار تھا اور میں اپنے فرائض منصبی فرنٹ پر آکر سرانجام دے رہا تھا فہد شوکت نے کہا کہ مجھے نامعلوم نمبروں سے کال آتی رہیں جو میں نے ریسیو نہیں کیں جسکے بعد جس موبائل دوکان پر میں موبائل مرمت کا کام کرتا ہے اس کے مالک مفتی افضال کافون رات ایک بجے آیا جو میں ریسیو کیا اس نے مجھے کہا کہ موبائل چوری کامعاملہ ہے آپ دوکان پرآئیں جس پر میں دوکان پر پہنچا تو وہاں پر بیروٹ کے چند لڑکے جنہوں نے شہر یار پر تشددکیاتھا وہ بھی اسکے ساتھ تھے شہر یار بارباراپنے بیانات بدلتا رہا اورکبھی کسی کانام لیتا اورکبھی کسی اورکانام لیتا رہا موبائل چوری میں لیتا اور بدلتا رہاکیونکہ بیروٹ والے لڑکے اس پر تشددکررہے تھے جس وجہ سے وہ اپنے بیانات کو تبدیل کرتا رہا پریس کانفرنس میں فہد شوکت نے حلفاً یہ کہا کہ میرا اور میرے کزن حریرہ راشد کا اس کیس سے کوئی تعلق واسطہ نہ ہے انہوں نے وزیراعظم پاکستان عمران خان،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ اور ڈی پی اوہزارہ سے مطالبہ کیا کہ اس کی کیس کی غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں تاکہ کوئی بھی بیگناہ اس کیس میں ملوث نہ کیاجائے اس موقع پر معززین علاقہ نے بھی انکی بیگناہی کی شہادت دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں