Kashmir Point Ponds 11

محکمہ ہیلتھ کشمیر پوائنٹ تلابوں سےگندے پانی کی سپلائی کے سمپل لینے میں ناکام

مری محکمہ ہیلتھ کشمیر پوائنٹ تلابوں سے گندے پانی کی سپلائی کے سمپل لینے میں ناکام۔میڈیا کی نشاندھی کے باوجود محکمہ انسانی جانوں سے کھیلواڑ کرنے میں مصروف۔گذشتہ کئی سالوں سے مری میں تعینات ہیلتھ انسپکٹر کرامت نے کشمیر پوائنٹ کے پانی ذخیرہ کرنے والے تلابوں اور ان میں دھار جاوا۔کھنی تاک۔ڈونگہ گلی سے آنے والے پانی کے معیار کا بھی ٹیسٹ نہیں کروایا جا سکا اور یہاں سے روازنہ کی گھنٹے کی گندے پانی کی سپلائی مری میں موجود افواج پاکستان کے مختلف جہگوں۔تعلیمی اداروں۔ہسپتالوں۔مساجد۔نامی گرامی بڑے کاروباری مراکز کو بھی مقامی باسیوں کو سپلائی کیا جاتا ہے۔محکمہ ہیلتھ مری پانی جیسے اہم بنیادی ضرورت کے معیار کو چیک کرنے میں مکمل ناکام ہے اوپر سے رہی سہی کسر تعمیرات مافیا نکال رہا ہے مری انتظامیہ کی نا اہلی اور ملی بھگت کی بنا پر شہر بھر میں جاری تعمیرات کی کھدائی سے نکلنے والی مٹی کو رات کی تاریکی میں شہر کی سڑکوں کنارے ڈیمپروں کے ذریعہ سے پھینکا جاتا ہے جہاں سے یہ مٹی ندی نالوں کے پانی میں حل ہو کر دھار جاوا ۔کھنی تاک کے پانیوں کے سورس تک پہنچتی ہے جہاں فلڑیشن کے بوسیدہ سسٹم جو اب نہ ہونے کے برابر ہیں واپس پانی کشمیر پوائنٹ کے تلابوں میں ذخیرہ کر کے شہر بھر میں بلا تفریق سپلائی کر کے انسانی جانوں سے باقاعدہ کھیلواڑ اسی پانی کے بھاری بلز وصول کر کے کیا جا رہا ہے جب کہ مری انتظامیہ ۔پبلک ہیلتھ اور محمکہ ہیلتھ کے ملازمین خود مختلف ہوٹلز کی بورنگ سے پانی اپنے اپنے ملازمین کے ذریعے منگوا کر یا پھر حرام کمائی سے خریدے گئے مہنگے منرل واٹر استعمال کر کہ پیتے نظر آتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں