Inspector Rana Karamat 15

انسپکٹر رانا کرامت گذشتہ کئی سالؤں سے چند ٹکوں کے لالچ میں کھیلنے لگا،،،

مری کئی سالوں سے تعینات ہیلتھ انسپکٹر کےلیئے ملکہ کوہسار مری دوبئی بن گئی۔ محکمہ ہیلتھ کے انسپکٹر رانا کرامت گذشتہ کئی سالؤں سے چند ٹکوں کے لالچ میں کھیلنے لگا۔ رشوت لینا سب سے محبوب مشغلہ۔ ہوٹلوں کو سپلائی کیئے جانے والا کشمیر پوائنٹ کے تلابوں کا گندہ پانی اور ہوٹلوں کے غیر معیاری کھانے انسانی زندگیوں کے لیئے انتہائی مضر صحت ہیں۔ فوڈ اتھارٹی کے انسپکٹر رانا کرامت سب کچھ جان کر بھی چند ٹکوں کی حواس میں عوام کی قیمتی زندگیوں کو داؤ ں پر لگانے لگا اگر اس طرح کے رشوت کا بازار گرم رہا تو یہ ملکہ کوہسار کے ماتھے کا بد نما داغ بن جاۓ گا۔کیونکہ پہلے کورونا وائرس نے دنیا ختم کی اوپر سے بارشوں نے انتظامیہ کا پول کھولا اور ابھی لوگ اس صدمے سے لوگ نکلے نہیں تھے کہ اب رانا کرامت کا کردار سامنے آنے لگا جس سے اب نہ جانے کتنے معصوم لوگ مری ہوٹلوں کے کھانے کے باعث اپنی صحت پر لاکھوں لگائیں گے۔ جبکہ دوسری طرف مری شہر کے باسیوں کو انگریز دور میں بناۓ جانے والے کشمیر پوائنٹ کےتمام تالاب گندگی سے بھرےپڑے ہیں جن پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی مکمہ ہیلتھ کے انسپکٹر موصوف وہاں جاتے ہیں جہاں ٹکا ملے ۔اور کاروباری طبقہ کو بلیک میل کر سکے عوام کا کہنا ہے کہ ایسے افسران کو ایک منٹ کیلئے بھی سیاحتی مقام پر نہیں رہنا چاہیئے جو ٹکے مارہو اس انسپکٹر کے متبادل کسی اور فرض شناس انسپکٹر کو تعینات کیا جائے تا کہ جو لوگوں کی قیمتی جانوں سے کھلواڑ نہ کرے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں