20

مال روڈ پر خواجہ سراہوں

ملکہ کوہسار مری کے تاریخی مال روڈ پر خواجہ سراہوں اور فحاشتہ خواتین کے ٹولے عذاب الہی کو دعوت دینے لگے۔مری شہر اور اس سے ملحقہ دیگر تفریحی مقامات بھنگڑے ڈالنے والوں اور دعوت گناہ دینے والوں کی محفوظ جگہ پن گئی۔مذہبی جماعتوں اور مذہبی حلقوں عمائدین و معززین شہر کی خاموشی سے مقامی باسی اور ملک بھر سے مری شہر آنے والے شریف سیاح فیملیز شدید پریشان ۔جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم شباب ملی بھی غیر فعال۔مری ڈولپمنٹ فورم ۔کوہسار یوتھ فورم کے نوجوانوں سے بے غیرتی کے ماحول کو ختم کرنے کی امیدیں شرفاء نے باندھ لی ہیں۔مری کے مقامی سنجیدہ حلقوں کا کہناہےکہ کرونا وائرس سے بھی خطرناک یہ صورتحال ہے ملکہ کوہسار کے تاریخی مال روڈ اور صدیق اکبر چوک
(ڈاکخانہ چوک) کی دوپہر ڈہلتے ہی باعزت لوگ شہر میں بے غیرتی کے ماحول کو دیکھ کر نظر نیچی کر کے کانوں کو ہاتھ لگاتے نظر آتے ہیں جبکہ دوسری طرف مری کے اہم بچیوں تعلیمی ادارے بھی شہر کے گردو نواح میں ہونے کی بنا پر ان میں تعلیمی سلسلہ میں تعلیمی ادارے کھلنے پر جہاں والدین پریشان ہیں وہائیں پر ملک بھر سے ملکہ کوہسار آنے والے سیاح فیملیز کی اکثریت نے اپنی رہائشیں شہر سے باہر بھوربن دریا گلی مری ایکسپریس وۓ اور گلیات میں رکھنی شروع کر دی ہیں عوام الناس کا اس حوالہ سے کہنا ہے کہ مری ڈولپمنٹ فورم اور کوہسار یوتھ فورم کے نوجوانوں سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں جبکہ اس سے پہلے مقامی لوگوں کی امیدوں کا مرکز مذہبی جماعتیں معززین و عمائدین اور جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم شباب ملی ہوتی تھی جو عرصہ سے غیر فعال ہو چکی ہے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں