Water bills 16

مری پانی کے بلوں میں سوفیصدہوشربا اضافہ ناقابل قبول

مری پانی کے بلوں میں سوفیصدہوشربا اضافہ ناقابل قبول ہے کوروناوائرس اور طویل ترین لاک ڈاؤن کے باعث لوگوں کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہونے سے دووقت کی روٹی بھی مشکل ہے ایسے میں پانی کے بلوں میں اتنا بڑااضافہ کرنا عوام دشمنی کے مترادف ہے ایک طرف تو پانی دودن بعد صرف 15 منٹ پانی سپلائی کیا جاتا ہے اور کئی مرتبہ تو 8 سے دس دن پانی صارفین کو فراہم نہیں کیاجاتا ان دنوں جوگندہ اوربدبودار پانی دیاجارہا ہے وہ بھی نہ تو پینے کے قابل ہے اور نہ ہی کھانا پکانے میں استعمال ہوسکتا ہے،پہلے سے ہی پانی کے بھاری بھرکم پانی کے بل دئیے جارہے ہیں جن کوادا کرنا انتہائی مشکل ہے ایسے میں مزید اضافہ کسی صورت برداشت نہیں کیاجائیگا اگر فوری طور پر اضافہ کو ختم نہ کیاگیا تو شدید احتجاج کیاجائیگا ان خیالات کا اظہار سابق نائب ناظم مری سٹی مری مرزاسہیل بیگ،ہوٹل آنر سلیم اکابر عباسی،وقار عباسی،پرویز میر اور دیگر نے جناح ہال مری میں پانی کے اضافہ کے بارے میں میونسپل کمیٹی مری کی طرف عوامی اعتراضات کی سماعت کے دوران کیا اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر مر ی زاہدحسین نے صارفین کو بتایا کہ مری میں پانی سپلائی کی سکیموں پر اخراجات بہت زیادہ ہیں جبکہ پانی کی آمدن کم ہے اور 50 فیصد آمدن اور اخراجات میں فرق ہے جسکے باعث پانی کے نرخوں میں اضافہ تجویز کیاگیا ہے جس پر عوام کی رائے،اعتراضات اور تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیاجائیگا،شرکاء کایہ بھی کہناتھا کہ متعلقہ واٹرمینجمنٹ کمیٹی کا بھی کوئی ذمہ دار اجلاس میں موجود نہ ہے جو صارفین کے تحفظات کا جواب دے انہوں نے پانی کے نرخوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اس کو فوری ختم کرنے کااعلان کرنے کامطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں