24

شہری نے مسافروں کو گرمی سے بچانے کیلئے اپنے رکشے کی چھت پر پودے اگالیے

کمار کا کہنا ہے کہ نئی دلی میں45 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں بھی یہ پودے رکشے کو ٹھنڈا رکھتے ہیں۔—فوٹو: اے ایف پی

بھارت ان دنوں شدید گرمی کے لپیٹ میں ہے ،ایسے میں ایک شہری نے مسافروں کو دھوپ اور تپش سے بچانے کیلئے اپنے رکشے کی چھت پر ہی پودے اگالیے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ( اے ایف پی ) کے مطابق نئی دلی میں  سڑکوں پر سبز اور پیلے رنگ کے آٹو رکشے ہر جگہ نظر آتے ہیں لیکن مہندرا کمار کا رکشہ ان سب میں منفرد ہے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق نئی دلی کے 48 سالہ رہائشی مہندرا کمار ایک رکشہ ڈرائیور ہیں، انہوں نے مسافروں کو گرمی کے اس موسم میں ٹھنڈک اور راحت  پہنچانے کیلئے رکشے کی چھت پر مختلف قسم کے تازہ پودے اگالیے۔

کمار کا کہنا ہے کہ نئی دلی میں45 ڈگری سینٹی گریڈ  درجہ حرارت میں بھی  یہ پودے رکشے کو ٹھنڈا رکھتے ہیں۔

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

خبررساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کمار نے بتایا کہ ‘تقریباً دو سال پہلے مجھے گرمی کے موسم میں  یہ خیال آیا اور  میں نے سوچا کہ اگر میں چھت پر کچھ پودے اگا سکوں تو اس سے میرا رکشہ ٹھنڈا رہے گا اور مسافروں کو گرمی سے راحت ملے گی’۔

رپورٹس کے مطابق کمار نے مسافروں کی سہولت کیلئے رکشے کے  اندر دو  چھوٹے کولر اور پنکھے بھی لگائے ہیں۔

کمار کا کہنا تھا کہ میرا رکشہ اب قدرتی اے سی (ایئر کنڈیشنر) کی طرح ہے،اس لیے مسافر بھی اب سواری کے بعد اتنے خوش ہوتے ہیں کہ  وہ مجھے اضافی10، 20 بھارتی روپے دیتے ہیں۔

کمار کے مطابق مسافر بھی اب سواری کے بعد اتنے خوش ہوتے ہیں کہ وہ مجھے اضافی10، 20 بھارتی روپے دیتے ہیں —فوٹو: اے ایف پی
کمار کے مطابق مسافر بھی اب سواری کے بعد اتنے خوش ہوتے ہیں کہ وہ مجھے اضافی10، 20 بھارتی روپے دیتے ہیں —فوٹو: اے ایف پی

کمار کے مطابق رکشے کی چھت پر پودے اگانا آسان تھے، میں نے سب سے پہلے ایک چٹائی اور موٹی بوری بچھائی جس پر کچھ مٹی ڈال دی اور پھر اس میں سڑک کنارے سے گھاس کی چھوٹی ٹہنیاں اور مختلف پودوں کے بیچ ڈال دیے اوردن میں 2 بار انہیں پانی دیتا رہا ،لہٰذا دیکھتے ہی دیکھتے چند دنوں میں یہ پودے بڑے ہوگئے۔

دوسری جانب کمار کا یہ منفرد رکشہ نئی دلی کی سڑکوں پر عوام کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور شہری اس میں سوار ہوکر تصاویر اور ویڈیوز بناتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بھارت میں 2010 سے اب تک ہیٹ ویوز سے6 ہزار 5 سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی جنوبی ایشیا میں سخت نقصان پہنچارہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں