40

ایکواڈور جنگلی جانوروں کو قانونی حقوق دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا

جنوبی امریکی ملک ایکواڈور دنیا کے تمام ترقی یافتہ ملکوں کو پیچھے چھوڑ کر جنگلی جانوروں کو قانونی حقوق دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا۔—فوٹو: فائل

جنوبی امریکی ملک ایکواڈور  دنیا کے تمام ترقی یافتہ ملکوں کو پیچھے چھوڑ کر جنگلی جانوروں کو قانونی حقوق دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق انسانوں کی طرف سے جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ رہے ہیں تاہم اسی دوران جنوبی امریکی ملک ایکواڈور نےدرست سمت میں قدم اٹھایا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ جنگلی جانوروں کو وہ حقوق ملیں جس کے وہ حقدار ہیں تاکہ وہ بھی آزادی سے زندگی گزار سکیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ اقدام ایکواڈور کی اعلیٰ ترین عدالت نے ایک ایسے مقدمے کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اٹھایا ہے  جس میں ایک بندریا اسٹریلیٹا (Estrellita)کا ذکر تھا جسے اس کے گھر سے چڑیا گھر لے جایا گیا جہاں وہ صرف ایک ہفتے بعد انتقال کر گئی۔

اسٹریلیٹا صرف ایک ماہ کی تھی جب اسے جنگل سے  گھر لے جایا گیا اور ایک لائبریرین نے اسے 18 سال تک پالتو جانور کے طور پر رکھا۔—فوٹو: فائل
اسٹریلیٹا صرف ایک ماہ کی تھی جب اسے جنگل سے  گھر لے جایا گیا اور ایک لائبریرین نے اسے 18 سال تک پالتو جانور کے طور پر رکھا۔—فوٹو: فائل

اطلاعات کے مطابق اسٹریلیٹا  صرف  ایک ماہ کی تھی جب اسے جنگل سے گھر لے جایا گیا اور ایک لائبریرین  نے اسے 18 سال تک پالتو جانور کے طور پر رکھا۔

تاہم 2019 میں حکام نے بندریا کو ضبط کرتے ہوئے چڑیا گھر منتقل کردیا تھا کیونکہ جنوبی امریکی ملک میں جنگلی جانوروں کی ملکیت غیر قانونی ہے بعد ازاں چڑیا گھر میں منتقل ہونے کے بعد  اسٹریلیٹا   کی ایک ہفتے کے بعد موت ہوگئی تھی۔

اس افسوسناک واقعے کے بعد اسٹریلیٹا کو 18 سال تک پالنے والے لائبریرین  نےعدالت کا دروازہ کھٹکٹھاتے ہوئے شکایت درج کروائی جس میں عدالت سے کہا گیا کہ بندروں کے حقوق کی خلاف ورزی کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق عدالت نے اب اسٹریلیٹا کے حق میں فیصلہ سنایا اورکہا کہ حکومت کی طرف سے اس کے حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے جس کی وجہ سے اس کی موت ہوئی۔

 تاہم، عدالت  نے مزید کہا کہ مالک کی طرف سے جانوروں  کے حقوق کی بھی خلاف ورزی کی گئی کیونکہ اس نے اسٹریلیٹا کوکافی چھوٹی عمر میں جنگل سے دور لے جاکر اسے پالتو جانور بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں