67

پاکستانی قوم آج بھی متحد ہے اور ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے، انجینئر راجہ نزاکت حسین حلقہ پی پی سیون

کلرسیداں حلقہ پی پی سیون انجینئر راجہ نزاکت حسین نے کہا ہے کہ مارچ 1940 ہماری تاریخ کا وہ سنہرا دن ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، اس دن نے مسلمانان ہند کی تقدیر بدل دی تھی، ہم اس دن کو یوم پاکستان کے نام سے یاد کرتے ہیں اور ہر سال محب وطن اس دن کو انتہائی جوش وجذبے سے مناتے ہیں۔خدا کرے میری ارض پاک پہ اترے ، وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو ہماری تاریخ میں 23 مارچ جیسا کوئی دن نہیں ہے، اس روز آل انڈیا مسلم لیگ کے 34 ویں سالانہ اجلاس میں مسلمانوں کے لیے الگ وطن کی قرارداد منظور کی گئی۔ جسے قرارداد لاہور بھی کہا جاتا ہے، جس کے چند سال بعد ہی برصغیر کے مسلمانوں نے ہندوئوں اور انگریزوں کی ایزا رسائیوں سے نجات حاصل کرلی اور اپنی ایک الگ ریاست بنانے میں کامیاب ہوگئے میں ملک کی سلامتی، ترقی و خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔دشمنان وطن کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ پاکستانی قوم آج بھی متحد ہے اور ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے انہوں نے کہا ہے کہ ہماری سماجی اور معاشی زندگی اہم ہے۔ سیاسی طاقت کے بغیر ہم اپنے عقیدے اور معاشی حقوق کا دفاع نہیں کر سکتے۔ پاکستان ہی ہندوستان کے اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کر سکتا ہے۔ مسلمانو ں کے پاس دماغ، ذہانت اور اہلیت موجود ہے اور تمام ایسی خوبیاں موجود ہیں جو ایک قوم میں ہونی چاہئیں۔ ہمیں اپنے کردار سنوارنے کی ضرورت ہے۔ عزت، دیانت، یقین اور قوم کے لئے قربانی ایسی خوبیاں ہیں جو مسلمانوں میں ہونی چاہیں۔ کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک عورتیں مردوں کے ساتھ مل کر کام نہ کریں یہاں تک کہ جنگ بھی عورتوں کے تعاون کے بغیر نہیں جیتی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اسلام کے نام پر بننے والے وطن عزیز پاکستان میں بھی فحاشی اور بے حیائی کو فروغ دیا جا رہا ہے جو کہ مغربی ثقافت کو عام کرنے اور اسلام اقدار کو مسمار کرنے کی عالمی سازش ہے اور عورت مارچ اس کی واضح مثال ہے ۔مغربی چندے پر پلنے والی این جی اوز مختلف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے پاکستان میں فحاشی اور بے حیائی کو عام کرنا چاہتیں ہیں ،یہ ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہے ۔ہمیں بحیثیت مسلمان قوم مغربی ثقافت کی یلغار کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے ۔عورت مارچ میں عورتوں نے پلے کارڈز پر جو جملے لکھے تھے وہ انتہائی غیر مناسب اور غیر اخلاقی تھے ،کوئی بھی مہذب معاشرہ اس کی اجازت نہیں دیتا ۔ان عورتوں کو اپنے اس فعل پر نادم ہوتے ہوئے اللہ تعالی سے معافی مانگنی چاہیے تاکہ کرونا وائرس سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عورت مارچ کو فنڈ مہیا کرنے والی این جی اوز کیلئے JITبنائی جائے جوتحقیقات کرے کہ پاکستان میں مغربی ثقافت کو عام کرنے اور فحاشی وبے حیائی پھیلانے کیلئے فنڈز کہاں سے آتے ہیں۔ پاکستان اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے جس کا دفاع کرنا ہرمحب وطن پاکستانی کاحق ہے ۔وطن عزیز پاکستان سے فحاشی ،بے حیائی ،عریانی ،بدعنوانی ،کرپشن ،لوٹ مار ،بے چینی ،دہشت گردی ،قتل وغارت کی روک تھام بہت ضروری ہے ۔معاشرے میں پائی جانے والی بدنظمی ،فتنہ وفسا د ،شر انگیزی اور عدم برداشت صوفیا کرام کی تعلیمات امن ومحبت سے دوری کی وجہ سے ہیں ۔ قائدین نے کہا ہم کرونا وائرس کے خلاف جنگ قومی اداروں کے شانہ بشانہ لڑیں گے ،اللہ تعالی پوری پاکستانی قوم کو اس وبائی مرض سے محفوظ رکھے ۔آمی