kahuta Raja Nazakat Hussain 89

انجینئر راجہ نزاکت حسین نے ایک خصوصی انٹرویو،،،،

کلر سیداں (انٹرویو عبدالعزیزپاشا سے )صوبائی اسمبلی پنجاب حلقہ پی پی 7 ممتاز نوجوان سیاسی و سماجی شخصیت انجینئر راجہ نزاکت حسین نے ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچپن سے انسانیت کی خدمت کرنے کی ترغیب دی اور فلاحی کاموں کا شوق جگایا۔ہمارے ملک میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جو انسانیت کی خدمت کے لئے سماجی اور فلاحی کام انجام دے رہیں۔ ہمارے معاشرے کا ہر فرد فلاحی کاموں میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرے۔ اُن میں سماجی اور فلاحی شعور اجاگر کریں۔ ہر سطح پر فلاحی کاموں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں موجود تمام نوجوانوں کے حوالے سے کام کرنے والی فلاحی تنظیموں کو یکجا کرکے ایک نئی ہمت و جذبے کے ساتھ سیاسی و سماجی شعور اجاگر کرکے ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ایک اچھا سماجی کارکن نوجوان اچھا سیاست دان بھی بن سکتا ہے، کیونکہ اسے عوامی مسائل کا گہرا مشاہدہ ہوتا ہے ایوان بالا میں سماجی ورکر نوجوانوں کا بڑی تعداد میں پہنچنا عام مسائل سے دوچار افراد کی نمائندگی اور ان کی آواز بن سکتا ہے۔ قوتوں، صلاحیتوں، حوصلوں، اُمنگوں، جفا کشی، بلند پروازی اور عزائم کا دوسرا نام جوانی ہے۔ دور میں ہر شخص مسائل کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے اور حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے عوام تلخیوں اور پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں، خاص طور پر نوجوان عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ایسے میں قابل تحسین ہیں وہ لوگ جو لوگوں کے دُکھ درد سمیٹنے اور ان میں آسانیاں بانٹنے کے لئے عملی طور پر سرگرم رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کے کام آنا انسانیت اور عبادت ہے۔ جو انسان دوسروں کے غم میں شریک ہوتا ہے۔ اس کے اپنے غم مٹ جاتے ہیں۔ زمانہ جوں جوں ترقی کرتا جا رہا ہے، باہمی محبت و تعاون کا جذبہ سرد پڑتا جا رہا ہے۔ایک دوسرے کے کام آنا ایک اچھے معاشرہ کی تشکیل کا نقطہ ٔ آغاز ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں اکثریت خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے، بنیادی حقوق تک سے محروم ہیں۔ انسان کی ضروریات میں صحت، تعلیم، لباس اور طعام و قیام ہے مگر ہمارے ملک میں زیادہ تعداد ان سے بھی محروم ہے، آج کے پرُ فتن دور میں ایسے اداروں کا قیام بے حد ضروری ہے جو خدمت خلق فلاحی اور سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، اسلام کے عملی تعارف کے لئے خدمت خلق کا میدان سب سے پسندیدہ اور مؤثر عمل ہے۔ فلاحی و سماجی خدمات میں نوجوانوں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔کیونکہ وہ بے غرض ہو کر خدمت خلق کا کام انجام دیتے ہیں۔ معاشرے میں مثبت سوچ کو پروان چڑھانے کا سہرا بھی نوجوانوں کے سر ہے۔ نوجوان ملک و ملت کا مستقبل ہوتے ہیں۔ قوم کے معمار اور قیمتی سرمایہ تصور کئے جاتے ہیں۔ وہ ملت کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ دماغی و جسمانی لحاظ سےدوسروں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ ان میں ہمت و جستجو کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔کٹھن حالات کا جواں مردی سے مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔ کسی بھی قوم کی ترقی کی ضمانت نوجوانوں میں مضمر ہے۔ ہمارے ملک میں بہت سے نوجوان اپنی مدد آپ کے تحت پاکستان کی فلاح و بہبود کے لئے کام کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انجینئر نزاکت حسین میں کہا ہے کہ معاشرے کے معاشی، فلاحی، انفرادی اصلاحی اور تحقیقی پہلو سے وابستہ انسانیت کی خدمت و ترقی کے امور کو سماجی کام کہا جاتا ہے۔ ان کاموں کا تعلق روح اور عمرانیات کے فلسفہ میں پنہاں ہے۔انسانیت سے پیوست ہر پہلو کی اصلاح، فلاح اور رہنمائی کے لئے جو بھی راستہ چنا جائے، وہ سماجی خدمت کے زمرے میں آتا ہے۔ سماجی کارکنان کی ذمہ داری ہے کہ وہ انفرادی طور پر بھی مثبت و تعمیری سوچ کو پھیلائیں اور مفاد عامہ کے مسائل کے حل کے لئے سماجی تقاضوں کے تحت کوششیں کریں، کیونکہ وہ خود بھی معاشرے کی بنیادی اکائی ہیں، خاص طور پر نوجوان سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر وطن عزیز پاکستان کی تعمیر و ترقی و حفاظت میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ہر معاشرے میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو بڑی خاموشی کے ساتھ فلاح و بہبود کے کام کرتے ہیں۔ ایسے افراد کو نہ تو شہرت کی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کا لالچ، ان کے فلاحی کاموں سے حاصل کردہ اطمینان ہی ان کے لئے سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ فلاحی ادارے ہمارے معاشرے میں نعمت سے کم نہیں ہیں۔ ہمارے سماجی مسائل کی ایک بڑی وجہ جذبہ خدمتِ خلق کی کمی ہے۔ ہمارے ارد گرد مسائل میں گھرے کئی افراد مدد کی آس میں تڑپ رہے ہیں۔بیمار، لاچار، بے سہارا، یتیم، بیوہ، غریب، مسکین، بے گھر، سیلاب یا زلزلہ کی تباہ کاریاں یا دوسری کئی آفتوں کے مصیبت زدہ افراد، ایسے پریشان حال لوگوں کی مدد کرنا ہم پر فرض ہے، خصوصاً …