kahuta Raja Nazakat Hussain 90

عبادت صرف نماز، زکو، روزہ اور حج کا نام نہیں بلکہ ہر معاملہ میں اطاعت الہی کا نام ہے راجہ نزاکت حسین

کلرسیداں ( انٹر ویو عبدالعزیزپاشا سے ) حلقہ پی پی سیون کی ممتاز نوجوان سیا سی و سماجی شخصیت انجینئر راجہ نزاکت حسین نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت کے موقع پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حضرت علی کے فضائل بیان کرنے کے لئے دریا سیاہی اور دنیا کے سارے درخت قلم کا کام انجام دیں تو پھر بھی کم پڑے گا اورکاغذ قلم سیاہی اتمام تک پہنچیں گے مگر علی کے فضائل ختم نہیں ہونگے ۔ ہم فقط تبرک کے طور پر چند فضائل بیان کررہیں ہیںحضرت علی میں وہ تمام فضائل ایمان، تقوا، علم ، زہد، شجاعت ،سخاوت …اور دیگر تمام فضائل نہایت اعلی درجہ کے موجودہیں ، یعنی میں اور آپ ان کے لئے جتنادرجہ دے سکتے ہیں دیں تو ان کا عالی ترین درجہ حضرت علی کے وجود شریف میں موجود ہے، اور یہ ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں دوستداران اور ماننے والے اور عاشق تو پہلے ہی سے قائل تھے مگر آپ کے دشمن اور آپ سے کدورت رکھنے والے بھی ان فضائل کا اقرار کرتے ہیں ۔حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ امتیازی خصوصیت حاصل ہے کہ آپ کی ولادت خان کعبہ کے اندر ہوئی ، اسی وجہ سے آپ کو مولود کعبہ کہا جاتا ہے ، آپ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ولادت باکرامت کے بعد سب سے پہلے آپ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے رخ زیبا کا دیدار کیا ہے،چونکہ آپ نے ولادت کے بعد سب سے پہلے حضور کا چہر مبارک دیکھا اس کی برکت یہ ہوئی کہ آپ کا چہرہ دیکھنا بھی عبادت قرار پایا ایک سوال کے جواب میں حلقہ پی پی سیون کی ممتاز نوجوان سیا سی و سماجی شخصیت انجینئر راجہ نزاکت حسین نے کہا ہے کہ عبادت صرف نماز، زکو، روزہ اور حج کا نام نہیں بلکہ ہر معاملہ میں اطاعت الہی کا نام ہے، اطاعت میں حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں شامل ہیں قرآن مجید اوررسول اکرم کی تعلیمات وسیرت نے سکھایا ہے کہ سب سے اچھا اور بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچائے اورکسی کو تکلیف نہ دے۔غریبوں ، مسکینوں اور عام لوگوں کے دلوں میں خوشیاں بھرے، ان کی زندگی کے لمحات کو رنج وغم سے پاک کرنے کو کوشش کرے ،چند لمحوں کیلئے ہی سہی، انہیں فرحت ومسرت اورشادمانی فراہم کرکے ان کے درد والم اورحزن وملال کو ہلکا کرے۔ انہیں اگر مدد کی ضرورت ہوتو ان کی مدد کرے اوراگر وہ کچھ نہ کرسکتاہو تو کم ازکم ان کے ساتھ میٹھی بات کرکے ہی ان کے تفکرات کو دور کرے۔ اللہ کے پیارے حبیبنے ارشاد فرمایا ہے : بہترین انسان وہ ہے جودوسرے انسانوں کے لئے نافع ومفید ہو۔جب انسان کسی انسان کی مدد وحاجت روائی کرتاہے تو فطری طور پر دونوں کے درمیان اخوت وبھائی چارگی کے جذبات پیدا ہوتے اورالفت ومحبت پروان چڑھنے لگتے ہیں۔آپ کا ارشاد پاک ہے: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ،تم میں سے کوئی بھی مومن نہیں ہوسکتا یہاںتک کہ اپنے دوسرے بھائیوں کیلئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتاہیخدمتِ خلقِ خدا کے عام معنی اللہ تعالی کی مخلوق کی خدمت کرنا ہے۔خدمت خلقِ خدا محبت الہی کا تقاضا،ایمان کی روح اور دنیا وآخرت کی کامیابی و کامرانی کا ذریعہ ہے۔ صرف مالی اعانت ہی خدمت خلق نہیں بلکہ کسی کی کفالت کرنا،کسی کو تعلیم دینا،مفید مشورہ دینا، کوئی ہنر سکھانا،علمی سرپرستی کرنا،تعلیمی ورفاہی ادارہ قائم کرنا،کسی کے دکھ درد میں شریک ہونا اور ان جیسے دوسرے امور خدمت خلق کی مختلف راہیں ہیں۔ نمائندے کے سوال جوا ب دیتے ہو ئے حلقہ پی پی سیون کی ممتاز نوجوان سیا سی و سماجی شخصیت انجینئر راجہ نزاکت حسین نے کہا ہے کہ انسان ایک سماجی مخلوق ہے، اس لئے سماج سے الگ ہٹ کرزندگی نہیں گزارسکتا۔اس کے تمام تر مشکلات کا حل سماج میں موجود ہے۔ مال ودولت کی وسعتوں اور بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود انسان ایک دوسرے کا محتاج ہے، اس لئے ایک دوسرے کی محتاجی کو دور کرنے کیلئے آپسی تعاون،ہمدردی،خیر خواہی اور محبت کا جذبہ سماجی ضرورت بھی ہے۔مذہب اسلام چونکہ ایک صالح معاشرہ اور پرامن سماج کی تشکیل کا علمبردار ہے،اس لئے مذہب اسلام نے ان افراد کی حوصلہ افزائی کی جو خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار ہو،سماج کے دوسرے ضرورت مندوں اور محتاجوں کا درد اپنے دلوں میں سمیٹے،تنگ دستوں اور تہی دستوں کے مسائل کو حل کرنے کی فکر کرے،اپنے آرام کو قربان کرکے دوسروں کی راحت رسانی میں اپنا وقت صرف کریں