Khadim Hussain 48

کلر سیداں کے سنئیر صحافی عزیز پاشا کے خلاف جھوٹا کیس میڈیا کی آواز دبانے کی سازش ھے خادم حسین

کلرسیداں (نمائندہ خصوصی ) کلر سیداں کے سنئیر صحافی عزیز پاشا کے خلاف جھوٹا کیس میڈیا کی آواز دبانے کی سازش ھے پریس کلب حسن ابدال
عمران خان کے بیان کے مطابق ھم نے میڈیا پہ کوئی پابندی نہیں لگائی میڈیا آزاد ھے
یہ بات درست ھے کہ میڈیا آزاد ھے مگر کون سا میڈیا
وہ میڈیا جو چینلز کے گرم کمروں میں بیٹھے اینکر نما اداکار چلا رھے ھیں جن کا بیانیہ افواج پاکستان کے خلاف
جن کی سپورٹ پاکستان کے چوروں کے ساتھ ھے
جو لیسانیت کو فروغ دے رھے ھیں
جو ڈان لیکس کے کرتا دھرتا ھیں
جیسے حامد میر سلیم صافی یہ سب آزاد ھیں یہ چاھے دو قومی نظریہ کی دھجیاں آڑا دیں
چاھے افواج پاکستان کو دھشتگردی کا سپورٹر ثابت کرنے کی کوشش کریں
بھلے یہ منظور پشتین کی حمایت میں بکواسات کریں یہ آزاد ھیں ان کی مرضی یہ ملا فضل رحمن کا فوج مخالف بیانیے کو پرموٹ کریں
ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ یہ دجالی میڈیا کے اداکار ھیں مگر عام صحافی جسے معاشرے کی انکھ کہا گیا جو دھوپ گرمی بارش سردی دن رات ھمہ وقت علاقے کے حقیقی مسائل سے عوام اور حکمرانوں کو اگاہ رکھنے کی پوری کوشش کرتے ھیں
اور اگر یہ سچ لکھتے ھوئے کبھی پولیس کے غلط اقدام کی نشاندھی کر بیٹھے تو پولیس کی مخالفت کا شکار ھو جاتا ھے حالانکہ یہی صحافی ھوتا ھے جو پولیس کے اچھے کاموں کی تشہر بھی کرتا ھے
اب یہ تو نہیں ھو سکتا کہ پولیس کسی مظلوم پہ ظلم کرے اور صحافی خاموش رھے سچ کو دبا دے
اوپر لگی ایف ائی ار جو عزیز پاشا پہ دی گی ھے اگر اسے غور سے پڑھا جائے تو سب کچھ سمھج اجاتا ھے ایک ماہ کے بعد پرچہ درج کرنا اور عزیز پاشا جیسے معروف صحافی کو نامعلوم لکھنا باعث حیرت ھے جسے کلر سیداں کا بچہ بچہ جانتا ھے دوسری بات صحافی کے پاس جب کوئ خبر اتی ھے تو زمہ دار صحافی دونوں طرف کے موقف اپنے اخبار پہ لگاتا ھے یہی موقف لینے عزیز پاشا نام نہاد مدعی کے گھر گے ان کے ساتھ خاتون رپورٹر بھی تھیں مدعی نے ان کو اپنی مرضی اور اجازت سے اپنے گھر بٹھایا ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ھے کہ یہ صحافی زبردستی گھر میں داخل ھوئے یا اجازت سے مگر ایک سچ کے علمدار صحافی کو سچ سے روکنے کے لیے اس پہ جھوٹا پرچہ دے دیا عزیز پاشا کے ساتھ خاتون رپورٹر تھی کوئی پھولن دیوی نہیں تھی نہ عزیز پاشا قبضہ گروپ کا سرغنہ ھے جائیداد کا مسلہ دو بھائیوں کے درمیان ھے اس میں صحافی کا کیا لینا دینا ھم بحثیت صحافی حکومت سے اور RPO راولپنڈی سے یہ مطالبہ کرتے ھیں کہ اس کیس کی تفتیش کسی دیانتدار اور فرض شناس پولیس افسر سے کروائی جائے تاکہ اصل حقایق سامنے آسکیں
میری ضلع راولپنڈی اور اسلام اباد کے صحافیوں اور صحافتی تنظیموں سے بھی گزارش ھے کہ اپ لوگ اس ایف ائی ار کو دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ کیا یہ ایف ائی ار سچی ھو سکتی ھے یا پولیس مدعی ملی بھگت کا شہکار ھے میری تمام صحافی تنظیموں سے گزارش ھے اس پہ آواز بلند کریں تاکہ ھمارا یہ ساتھی پولیس گردی کا شکار نہ ھو اور اعلی افسران اس کی انکوئیراری کروائیں اور یہ جھوٹا پرچہ خارج ھو سکے
اگر اسی طرح سچ لکھنے والے لوکل صحافیوں پہ پرچے ھوتے رھے تو پھر سچ لکھنا اور عوامی مسائل اعلی حکام تک پہنچانا مشکل ھو جائے گا اخر میں اپنا ایک قطعہ پیش ھے
سچ بولتا ھوں تو ناگوار لگتا ھوں
کچھ اندھوں کو میں گنوار لگتا ھوں
ظاھر و باطن میں تفریق نہ کر پاو گے
اسود*منافقوں کو میں ننگی تلوار لگتا ھوں
خادم حسین سنئیر نائب صدر پریس کلب حسن ابدال