Ejaz Butt 19

پاکستان پیپلز پارٹی تحصیل کلرسیداں کے صدر و سابق ناظم محمد اعجاز بٹ نے کہا

کلرسیداں ( عبدالعزیزپاشا ) پاکستان پیپلز پارٹی تحصیل کلرسیداں کے صدر و سابق ناظم محمد اعجاز بٹ نے کہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو شہیدایک اعلی درجہ کے سیاستدان تھے اور وہ اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فورا راست اقدامات کرتے تھے۔ انہوں نے پاکستان کے ٹوٹنے کے بعد یہ تجزیہ کیا کہ اب پاکستان کو نیوکلیئر پاور بنانے سے ہی دوبارہ طاقت کا توازن اس خطے میں قائم ہو سکتا ہے چنانچہ انہوں نے 1972 میں ملتان میں پاکستان کے سائنسدانوں کی ایک خفیہ کانفرنس بلائی اور انکو پاکستان کو نیو کلیئر پاور بنانے کی قومی ذمہ داری سونپی۔ایک نیوکلئیرپاکستان پر جارحانہ عزائم رکھنے والی طاقت بری نظر سے دیکھنے تک کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ شہید بینظیر بھٹو نے پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی فراہم کی۔ نیوکلیئر ہتھیار ڈلیوری سسٹم کے بغیر وہ دفاعی مقاصد حاصل نہیں کر سکتے جسکے لیے وہ بنائے گئے تھیچنانچہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو دونوں کی وژن نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔ اب اگر ہندوستان اور پاکستان میں امن برقرار ہے تو صرف اور صرف پاکستان کے نیوکلیئر طاقت ہونے کی وجہ سے ہے۔ اگر پاکستان نیوکلیئر طاقت نہ ہوتا تو ہندوستان پاکستان کو ایک طفیلی ریاست بنانے میں شاید کامیاب ہو جاتا۔ نیو کلیئر بلیک میل غلامی سے بھی بد تر ہے خاص طور پر جب یہ ہندوستان کی طرف سے ہوانخیلات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی تحصیل کلرسیداں کے صدر و سابق ناظم محمد اعجاز بٹ نے نمائندے سے گفتگو کر تے ہو ئے کیا انہون نے کہا ہے کہ مغربی طاقتیں ذوالفقار علی بھٹو کے خون کی پیاسی تھیں کیونکہ وہ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کو ختم کرنے پر بضد تھیں۔ ہینری کسنجر نے کہا تھا کہ بھٹو صاحب اگر آپ نے نیوکلیئر پروگرام ختم نہ کیا تو عبرت ناک انجام کے لیے تیار ہو جائیں۔ انہوں نے جنرل ضیا الحق کے ہاتھوں ان کا قتل کروا دیا لیکن ان کا پیغام اور نیو کلیئر پروگرام کا کارنامہ رہتی دنیا تک یاد رہے گا۔انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر پاکستان کے عوام کو غلامی کے طوق سے بچایا۔ ایسا صرف عظیم لیڈر ہی کرتے ہیں ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی فورم پر کشمیریوں کے حقوق کی زبردست وکالت کی۔انہوں نے ہندوستان کی دھمکی آمیز مخالفت کے باوجود کشمیریوں کی حریت کانفرنس کو کانسا بلانکا میں اسلامی ممالک کی تنظیم میں ممبر شپ دلوائی۔ پھر انہوں نے جرات مندانہ اقدام کیا اور 5 فروری کو ہر سال کشمیر ڈے کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ اس دن تمام دنیا میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جاتا ہے اور ہندوستان کی حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری کروائے تا کہ کشمیری اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کریں۔