Raja Muhammad ShakeelRaja Muhammad Shakeel 66

ذوالفقار علی بھٹو چیلنجوں اور خطرات سے گھبرانے والے لیڈر نہیں تھیان راجہ محمد شکیل کیانی

کلرسیداں (عبدالعزیزپاشا)پاکستان پیپلز پارٹی دوبیرن کلاں کے راہنما وصدر بریٹ آن ٹرین برطانیہ راجہ محمد شکیل کیانی نے کہ ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے دنیا میں ہندوستان کی سیکیورٹی فورسز کے جبرو استبداد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ضمن میں اس ملک کی سیکولرز م اور جمہوریت کو خوب ایکسپوز کیا۔ محترمہ نے آزاد کشمیر کے دورے کے دوران فرمایا تھا کہ آزادی کا نعرہ مقبوضہ کشمیر میں بم دھماکوں سے زیادہ دور تک سنائی دیتا ہی شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ہندوستان سے پاکستانی علاقہ واپس لینے کے علاوہ 90 ہزار پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے بعد ملک کے اندرونی محاذ پر بھی توجہ مرکوز رکھی۔ ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج آئین پاکستان کے بنانے کا تھا جو کہ عوامی امنگوں کی عکاسی کرتا ہو۔ یہ چیلنج 1971 کے واقعات کے بعد اور بھی زیادہ مشکل تھا لیکن ذوالفقار علی بھٹو چیلنجوں اور خطرات سے گھبرانے والے لیڈر نہیں تھیان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی دوبیرن کلاں کے راہنما وصدر بریٹ آن ٹرین برطانیہ راجہ محمد شکیل کیانی نے جاری اپنے ایک اخباری بیان میں کیا انہوں نے سیاسی قیادت اور ہر شعبہ زندگی کے طبقات سے مشاورت کا سلسلہ شروع کیا۔ اسکے بعد انہوں نے پاکستانی قوم کو متفقہ آئین 1973 کا ایک انمول تحفہ پیش کیا۔ یہ آئین پاکستان کے عوام کے درمیان ایک مضبوط رشتے کے طور پر قائم ہے جسکی وجہ سے وفاق پاکستان قائم و دائم ہے۔ اسکے باوجود کہ ماضی کے ڈکٹیٹروں نے اس کا بری طرح حلیہ بگاڑ دیا تھا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کو آئین پاکستان کو بنانے اور اسکی بحالی کا کریڈٹ جاتا ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے تو کمال دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو رضاکارانہ طور پر منتقل کر دئیے تا کہ پارلیمنٹ مضبوط ہو نہ کہ ایوان صدر۔ یادرہے کہ ماضی کے صدور نے 58(2) b کا استعمال کرتے ہوئے منتخب حکومتوں کو اپنی مرضی سے گھر بھیج دیا اسکے باوجود کہ انکے پاس نیشنل اسمبلی میں اکثریت تھی۔ آصف علی زرداری کے اس تاریخی فیصلے سے اب کوئی صدر منتخب حکومتوں کو نہ تو بلیک میل کر سکے گا اور نہ ہی انکی بساط لپیٹ سکے گا۔ پچھلی