Raja Naveed 51

پاکستان پیپلز پارٹی مسلسل جدوجہد کا نام ہے راجہ نوید

کلرسیداں (عبدالعزیزپاشا) پاکستان پیپلز پارٹی حلقہ این اے 86کے امیدوار برائے قومی اسمبلی راجہ نوید نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی مسلسل جدوجہد کا نام ہے اور یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس ملک کے غریبوں کو مکمل حقوق نہیں مل جاتے، ملک کی خواتین با اختیار نہیں ہوتیں، اقلیتوں کو مکمل حقوق نہیں مل جاتے، دہشتگردی اور انتہا پسندی کو مکمل شکست نہیں ہو جاتی اور سب سے بڑھ کر جب تک پاکستان سے جمہوریت کے فروغ اور تسلسل کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔ پیپلز پارٹی شروع ہی سے بانی پاکستان کے نظریہ کو شہید ذوالفقار علی بھٹو کی وژن اور خیالات کے مطابق شرمندہ تعبیر کرنے میں کوشاں ہے۔ حقیقت میں پیپلز پارٹی کے نظریہ اور نظریہ پاکستان میں حیران کن مماثلت ہے۔پاکستان جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا اور پاکستان کا قیام جمہوری جدوجہد کی ایک شاندار مثال ہے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی بھی سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے جمہوری جدوجہد پر ایمان کی حد تک یقین رکھتی ہے ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی حلقہ این اے 86کے امیدوار برائے قومی اسمبلی راجہ نوید نے ایک بیان جاری کر تے ہو ئے کیا انہوں نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ عوام کے ووٹوں سے اقتدار میں آئی ہے اور یہ اس پارٹی کا طرۂ امتیاز ہے کہ اس نے کبھی بھی اسٹیبلشمنٹ کی بیساکھیوں کا سہارا نہیں لیا۔ تاریخ اسکی گواہ ہے جبکہ دوسری پارٹیوں کے کردار اس ضمن میں روز روشن کی طرح عیاں ہے۔شہید ذوالفقار علی بھٹو نے شکست خورہ قوم کو مایوسی اور نا امیدی کے اندھیروں سے نکال کر روشن مستقبل کی نوید سنائی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک نیا پاکستان بنائیں گے جو کہ جمہوری، خوشحال، مستحکم، مضبوط اور امن پسند ملک ہو گا۔اسلامی سربراہی کانفرنس کا لاہور میں انعقاد پاکستانیوں کے اعتماد کو آسمان کی بلندیوں تک لے گیا۔ تمام مسلم دنیا کے سربراہان کا لاہور میں اسلامی کانفرنس میں شریک ہونا ایک سحر انگیز منظرتھا جو امت مسلمہ کے اتحاد اور مشترکہ مقاصد کے حصول کا مظہر تھا۔ لاہور کی اسلامی سربراہی کانفرنس نے دنیا کے بڑے بڑے ممالک میں ایک انجانے خوف کی لہر دوڑ گئی۔ مسلم دنیا کے سستے اور بلا تعطل تیل کی سپلائی سے دنیا کی معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔ اگر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ آجائے تودنیا کی معیشت ہفتوں میں تباہ ہو سکتی ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے مسلمان ملکوں کو مشورہ دیا کہ وہ تیل کو بطور ہتھیار استعمال کریں جس سے انکی آمدنی میں بے پناہ اضافہ ہونے کے علاوہ دنیا انکی عزت کرنے پر مجبور ہو جائیگی۔ اس مشورے پر عمل کرنے سے ان ممالک کو وہی سیاسی اور معاشی فوائد اسی تناسب سے حاصل ہوئے جسکی ذوالفقار علی بھٹو نے نشاندہی کی تھی۔ انکا یہ کردار نئی نو آبادیاتی طاقتوں کو پسند نہیں آیا اور اس لیے انہوں نے انہیں ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا اور صحیح وقت کا انتظار کرنے لگے۔دہانے پر