Hassan Abdal 74

حسن ابدال کے ایس ایچ او نیاز خان کے ساتھ ملی بھگت جھوٹا مقدمہ درج

کلرسیداں (  عبدالعزیزپاشا سے ) ضلع اٹک تحصیل حسن ابدال تھانہ صدر حسن ابدال گائوں پنڈدلی کی رہائشی سائلہ زیفہ خاتون بیوہ منظور نے کلرسیداں میڈیا سیل میں اپنی فریاد سناتے ہوئے بتایا ہے کہ17 نومبر کو بوقت شام سات بجے کے قریب میرا بیٹا م عمران خان اپنے گھر کے اندر صحن میں کھڑے رکشہ کی صفائی کر رہا تھا اور ساتھ ہلکی آواز میں ٹیپ لگائی ہوئی تھی اسی دوران ہمارے پڑوسی مراد اور نثار ولد سید افضل ہمارے گھر میں اندر داخل ہو کر میرے کے بیٹے عمران خان کو دونوں بھائیوں مراد خان مسلح پسٹل اور نثاراحمد مسلح ڈنڈاآتے ہی میرے بیٹے کوگریبان سے پکڑ لیا اور عمران کو نثار احمد نے ڈنڈا سے مارنا شروع کر دیا جس سے میرے بیٹاعمران کو ڈنڈا سر میں لگنے سے شدید چوٹیں آئی اور دروان لڑائی ہاتھ پائی بمشکل منت سماجت کر کے ان سے جان چھرائی اور اس دوران غصہ میں مسلح پسٹل مرادخان نے میرے بیٹے کو گولی مارنے کی کوشش کی لیکن گولی میرے بیٹے کو لگنے کے بجائے مراد خان ہی کے ہاتھوں اپنے ہی بھائی نثاراحمد کو گولی جاکر لگی جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا اس دوران موقع پر چشم دید گواہ میں خوداور طاہر علی اور فیصل شہزاد نے سارا واقع اپنی آنکھوں سے دیکھا مراد خان نے اپنے بھائی کو خود ساختہ فائر کرکے تھانہ صدر حسن ابدال کے ایس ایچ او سب انسپکٹر نیاز خان کے ساتھ ملی بھگت کرتے ہوئے اصل حقائق پر پردہ ڈالتے ہو ئے الٹاہمارے خلاف ہی تھانہ صدر حسن ابدال میں اقدام قتل کا جھوٹا مقدمہ نمبر،410/20بجرم 324ت پ درج رجسٹر کروایا جس میں کوئی صداقت نہیں میرے بیٹے عمران خان نے اس سلسلے میں ایک تحریری درخواست ایس ڈی پی او سرکل صدر سرکل حسن ابدال کو دی لیکن ڈی ایس پی انصاف دینے کے بجائے الٹا ہمیں ہی ذلیل و خوار کر رہا ہے ہماری کوئی بات نہ سنی مذکورہ ڈی ایس پی صدر اور ایس ایچ او صدر حسن ابدال دونوں نے چمک کے عوض ہمیں انصاف فراہم کرنے کے بجائے الٹا خود ساختہ اور جھوٹا مقدمہ درج کر وانے والے مراد خان اور نثار احمد کی پشت پنائی کر رہے ہیں ہمیں انصاف دینے کے بجائے بے عزت کر کے اپنے دفتر سے نکال دیا میرا بیٹا عمران خان مقدمہ ہذا میں عبوری ضمانت پر ہے تھانہ صدر حسن ابدال کا ایس ایچ او سب انسپکٹرنیاز خان کی طرف سے میرے بیٹے عمران خان کو بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں کے تمہاری ضمانت کینسل ہوگی تم تھانے ہی آئوگے ہمیں مقامی پولیس اور ڈی ایس پی کی طرف سے انصاف نہیں دیا جارہا لہذا میری درخواست صدر سرکل حسن ابدال بھجوانے یا مارک نہ کی جائے مجھے اس افسران سے انصاف کی توقع نہ ہے میںمیڈیا کی وساطت سے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدرا ،آئی جی پنجاب ، آر پی او راولپنڈی ڈی پی او اٹک استد عا کر تی ہوں کہ ہمارے خلاف درج مقدمہ کی انکوائری کسی(PSP) سینئر پو لیس آفیسر سے غیر جانیدارانہ کروا کر اس جھوٹے مقدمہ کو خارج کر کے ہمیں انصاف فراہم کیا جائے کیا