negotiations 31

آل پارٹیز کی طرف پہیہ جام ہڑتال ڈپٹی کمشنر راولپنڈی سے مذاکرات کے بعد اختتام پذیر ہوگئی

کوٹلی ستیاں (عمران ستی) آل پارٹیز کی طرف پہیہ جام ہڑتال ڈپٹی کمشنر راولپنڈی سے مذاکرات کے بعد اختتام پذیر ہوگئی
تمام سیاسی جماعتوں، مذہبی جماعتوں، سول سوسائٹی اور صحافی برادری کا شکریہ آصف شفیق ستی
کوٹلی ستیاں میں تمام جاری ترقیاتی منصوبوں اور مین روڈ کے لیے آل پارٹیز کی طرف سے 5 ستمبر کو ہڑتال کا آغاز ہوا جس کی قیادت رہنما این اے ستاون آصف شفیق ستی ،تبسم منیر ستی ،راجہ حق نواز ستی، طارق ستی ،راجہ ثناء اللہ ستی، ایڈووکیٹ احسان اللہ ستی،فیصل ستی باغی ،انجمن تاجران کے صدر ثناالحق ستی ،جماعت اسلامی کے صولت مجید ستی، مری سے سردار محسن خان ، تحریک لبیک تحریک اہلسنت اور دیگر نے کی قافلے راولپنڈی، اسلام آباد، ملوٹ ستیاں، کرور اور ڈھانڈہ سے اس ہڑتال میں شریک ہوئے ہڑتال رات گئے تک جاری رہی اس موقع پر تمام قائدین نے تقاریر کے زریعہ مظاہرین کا لہو گرمائے رکھا کوٹلی ستیاں کی تاریخ میں یہ پہلی بار صرف کوٹلی ستیاں کے حقوق کے لیے سب کا مشترکہ احتجاج تھا حکومت کی طرف سے کسی قسم کی رکاوٹ نظر نہ آئی پہلے اسسٹنٹ کمشنر نے مذاکرات کیے جو ناکام ہوگئے قائدین نے جب مزید روڈز بند کرنے کا عندیہ دیا تو انتظامیہ حرکت میں آئی اور ڈپٹی کمشنر انوار الحق کوٹلی ستیاں رات کیےہی پہنچ گئے اس کے بعد اسسٹنٹ کمشنر کے آفس میں مذکرات شروع ہوئے ڈپٹی کمشنر سے معاہدہ ہوا کہ 20 اکتوبر تک ملوٹ ستیاں روڈ اور کہوٹی کلیاڑی روڈ پر کام شروع کردیا جائے گا اس کے بعد ایک معاہدہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کوٹلی ستیاں کے سائن کے ساتھ مظاہرین کے حوالے کیا گیا جس کے بعد مین چوک میں آصف شفیق ستی نے ڈپٹی کمشنر انوار الحق اور اسسٹنٹ کمشنر کوٹلی ستیاں ظفر حسین نقوی کی موجودگی می‍ں معاہدے کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا اور ہڑتال اور دھرنے کا اختتام ہوا اس ہڑتال کے دوران ایک جھگڑے میں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما حق نواز ستی کا بیٹا بھی زخمی ہوا اس کے علاوہ انتظامیہ کے ساتھ مظاہرین کا کسی قسم کا کوئی مسلہ نہ ہوا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں