HAHA 42

تحصیل بھر میں پابندی کے باوجود کیمیکل ملا دودھ نیلے پیلے ڈرموں میں دھڑلے سے سپلائی کیا

پنڈدادنخان(سلیمان شہباز،عدنان یونس )تحصیل بھر میں پابندی کے باوجود کیمیکل ملا دودھ نیلے پیلے ڈرموں میں دھڑلے سے سپلائی کیا جارہا ہے جگہ جگہ ملاوٹ شدہ دودھ دہی کی دکانیں کھل گئی عوام موزی امراض کا شکار ہونے لگے متعلقہ محکمہ کی بے حسی کے باعث تحصیل بھر میں نیلے ڈرموں میں دودھ کی فروخت کا سلسلہ جاری،عوامی سماجی حلقوں وزیر اعلی پنجاب سے فوری نوٹس کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق تحصیل پنڈدادنخان میں متعلقہ محکموں کی پراسرار خاموشی کی وجہ سے تحصیل بھر میں زہریلے کیمیکل سے تیار ہونے والے دودھ کی سپلائی دھڑلے سے جاری ہے جس کے باعث عوام مضر صحت دودھ کے استعمال کی وجہ سے پیٹ معدے اور دیگر موذی امراض میں تیزی سے مبتلا ہو رہے ہیں متعلقہ محکموں کی بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ اب تحصیل بھر میں ہر گلی محلے میں ملاوٹ شدہ دودھ دہی کی دکانوں میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے کیونکہ کیمیکل سستا ہونے کی وجہ سے زہریلے دودھ کا کاروبار انتہائی سستا اور منافع بخش ہے جبکہ ذرائع کے مطابق دودھ سمیت دیگر خطرناک مواد دشمن ملک بھارت سے آتا ہے جبکہ متعلقہ محکمہ سال میں ایک عاد کاروائی کر کے سب اچھا کی رپورٹ کرتے ہیں ناقص دودھ کی فروخت کی روک تھام کا ٹوپی ڈارمہ رچایا جاتا ہے اور فوٹو سیشن کے لیے گوالوں کو برائے نام جرمانہ اورکچھ ناقص دودھ ضائع کیا جاتا ہے مصنوعی دودھ تیار کرنے والا زہریلاکیمیکل جو کہ خطرناک میٹریل سے تیار ہوتا ہے اور صحت کے لیے خطرناک ہونے کے ساتھ ساتھ بیماریوں کا باعث بھی بنتا ہے ستم ظرفی یہ ہے کہ پابندی کے باوجود یہ ہی دودھ نیلے پیلے پلاسٹک کے ڈرموں میں فروخت بھی ہو رہا ہے اور سرعام عوام کی صحت کے ساتھ کھیلا جارہا ہے عوامی سماجی حلقوں نے ان ہوس کے پجاریوں کے خلاف سخت سے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب ،وزیر صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر متعلقہ محکموں کی بے حسی کے خلاف کاروائی کرکے غفلت برتنے والوں کو برطرف کیا جائے تاکہ عوام کی صحت سے کھیلنے والوں کو سبق حاصل ہو ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں