ici pic 68

ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹر ی دو ماہ سے بند مزدور فاقہ کشی کا شکار

پنڈدادنخان(سلیمان شہباز،عدنان یونس )ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹر ی دو ماہ سے بند مزدور فاقہ کشی کا شکار،300سے زائد ریٹائرڈ اور فوت ہوجانے والے مزدووں کے لواحقین پچھلے دس سالوں سے اپنے واجبات نہ ملنے سے اپنی جمع پونجی سے محروم ہیں ۔فیکٹری بندش کے باعث سینکڑوں محنت کشوں کے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں۔اور کئی علاج و معا لجہ نہ ہونے سے وفات پا گئے ہیں۔حکومت پاکستان کمپنی میں ہونے والی بے ضابطگیوںاور مالی بدعنوانیوں کی تحقیق کے لیے کمیٹی تشکیل دے،مزدور رہنما حاجی عبدل غفورتفصیلات کے مطابق ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹری کی موجودہ صورت حال کے بارے میں تحصیل پریس کلب رجسٹرڈ پنڈدادنخان میں مزدور رہنمائوں نے پریس کانفرس کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستا ن عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹری کی نجکاری1992میں ہوئی جس بولی میں مزدور یونین نے بھی حصہ لیااور لیٹر آف انیٹنٹ نجکاری کمشن نے محنت کشوں کو جاری کیا جس کے بعد معقول فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے ہم نے ایک انویسٹر چکوال گروپ کو پاور آف آٹارنی دی اور اسکے بعد1992میں ایک معاہدہ طے پاگیا جس میں محنت کشوں نے سروس کی ضمانت لی اسکے بعد مختلف ادوار میں مختلف گروپوں نے ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹری کو خریدا اور یہاں سے ہی پیسہ کما کر اپنی اپنی فیکٹریاں بنا لیں جن میں پاکستان سیمنٹ فیکٹری،غریب وال سیمنٹ فیکٹری ،پائیدار سیمنٹ فیکٹری،تھری سٹار سیمنٹ فیکٹر ی اور ایک میڈیکل کالج کے علاوہ اپنی بن فیکٹریوں کو چلانے کے بعد ادارے کو پانچ ارب روپے کا مقروض کر کہ چھوڑ دیااب موجودہ انویسٹر جو کہ وفاقی وزیر قانون بریسٹر فروغ نسیم کے بھائی ہیں نے ایک نئی Calicam) (کے نام سے بنا کرچلتی ہوئی ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹر ی کو بند کرکے تمام تر سہولیات سے بھی مزدورروں کو محروم کر دیا ہے فیکٹری کی رہائشی کالونی کی بجلی10گھنٹے بند رہتی ہے اسکے علاوہ مزدورں کو تین ماہ کی تنخواہ بھی نہیں دی گئی جبکہ دوسری طرف پیداواری سرگرمیوں کی بندش کے باوجود سٹاک میں سے ہزاروں ٹن سیمنٹ کو نکالا جا رہا ہے علاقہ کی بڑی سیمنٹ فیکٹری کی بندش کے باعث مزدور معاشی بد حالی کا شکار ہو چکے ہیں تحصیل بھر کے مزدور رہنمائوں ملک نصرت ،حاجی غفور،حاجی صغیر،عطا اللہ نے وزیر اعظم پاکستان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ڈنڈوت سیمنٹ کمپنی میں مزدوروں کے کل اثاثے 85کروڑ سے بھی زیادہ ہیں 300سے زائد ریٹائرڈ اور فوت ہوجانے والے مزدووں کے لواحقین پچھلے دس سالوں سے اپنی جمع پونجی محروم ہیں ابھی تک بقایا جات ادا نہ کیئے گئے فیکٹری بندش کے باعث سینکڑوں محنت کشوں کے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں ، ہم حکومت پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ کمپنی میں ہونے والی بے ضابطگیوںاور مالی بدعنوانیوں کی تحقیق کے لیے کمیٹی تشکیل دیں اور مزدورں کا معاشی قتل بند کیا جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں