پیٹرولیم مصنوعات 13

ملک بھر میں پٹرول کی دستیابی سے متعلق پریس بیان

ملک بھر میں پٹرول کی دستیابی سے متعلق پریس بیان ترجمان پٹرولیم ڈویژن کا پٹرول کی قلت کے مطلق اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ میڈیا کا ایک حصہ موجودہ پیٹرول بحران کو کویوڈ ۔19 لاک ڈاؤن کے دوران 25 مارچ 2020 کو حکومت کی جانب سے عائد کردہ درآمدی پابندی کی وجہ قرار دے رہا ہے۔ نہ تو اس بیانیے میں سچائی ہے اور نہ ہی حقائق کی درست ترجمانی کی جارہی کہ درآمدی پابندی پٹرول دستیابی کی موجودہ صورتحال کا باعث بنی ہے۔

درآمدات پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کسی اجلت میں نہیں کیا گیا بلکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے طلب میں نمایاں کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے تیل کی درآمدات کو کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاہم 24 اپریل کو درآمدات کو کم کرنے کا فیصلہ واپس لیا گیا۔ یہ بھی معلوم ہونا ضروری ہے کہ اس مدت کے دوران یعنی (25 مارچ 2020 تا 24 اپریل 2020) موٹر گیسولین کے چھ (6) بحری جہاز اور خام تیل کے دو (2) جہاز کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوئے۔ مزید یہ کہ پاکستان کی آئل درآمدات خلیج ممالک سے آتی جسکی وجہ ان جہازوں کا بحری سفر دورانیہ تقریباً 3-4 دن کا ہوتا ہے. جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جون 2020 کے مہینے میں طلب و رسد میں مارچ کی جزوی درآمد پابندی کسی طور پر باعث نہیں بن سکتی ہے۔

دریں اثنا ، پیٹرولیم ڈویژن ، اوگرا ، لوکل گورنمنٹ اور لاء انفورسمنٹ اتھارٹی کے نمائندوں پر مشتمل ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں اور او ایم سی / ڈیلرز اور دیگر تنصیبات سے پیٹرول اور پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی پکڑی گئی ہے۔ حکومت نے ایسے تمام عناصر کو واضح طور پر تنبیہ کیا ہے کہ غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور کڑی سزا دی جائے گی۔ مختلف آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ڈپوز کے معائنے کے بعد تقریباً نصف سے زائد آئل ترسیل متحرک ہوچکی ہے اور سپلائی اب پورے ملک کو ںپہنچ رہی ہے ، توقع ہے کہ کل (ہفتہ) تک اس کی فراہمی مکمل بحال ہوجائے گی۔

پٹرولیم ڈویژن پٹرول کی ترسیل اور دستیابی پر مستقل چوکس نگاہ برقرار رکھے ہوئے ہے ، وہ ہم اپنی ٹیم سےمسلسل رابطے میں ہے اور بھر وقت فیصلے لیے جا رہے ہیں اور عوام / پٹرول ڈیلروں پر دوبارہ اپیل کی جاتی ہے کہ وہ پٹرول کی ضرورت کے مطابق خریداری کرے، حالات اگلے چوبیس گھنٹوں میں مزید بہتر ہو جائے گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں