پی آئی اے طیارہ حادثہ 30

طیارے کے مشکل اور وزنی ترین حصے آٹھا لئے گئے

پی آئی اے طیارہ حادثہ

طیارے کے مشکل اور وزنی ترین حصے آٹھا لئے گئے

گھروں کے درمیان سے جہاز کا پر اور انجن تکنیکی ماہرین کی موجودگی میں وزنی کرین کی مدد سے نکال لئے گئے

حادثے کے بعد کئی ٹن وزنی انجن سہہ منزلہ عمارت کی چھت پر پڑا تھا

جہاز کا 17 میٹر لمبا اور 5 میٹر چوڑا پر گھر کے اندر دھنسا ہوا تھا

پر کو نکالنے سے گھر کے منہدم ہونے کا خدشہ تھا لہذا چھت کو ٹکڑوں کی صورت میں نکالا گیا

چھت، انجن اور پر اٹھانے کیلئے وزنی اور اونچی کرین کی ضرورت پڑی مگر راستہ تنگ، گنجان آباد اور بجلی کی تاروں کی وجہ سے بہت دشواری ہوئی

پی آئی اے نے کے پی ٹی اور نیول ڈاکیارڈ سے وزنی کرنیں اور دیگر مشینری منگوائی

پی آئی اے کی مدد کیلئے آرمی میکانائزڈ انجینئرز اور پاک فضائیہ کے دستے بھی موجود رہے

سندھ رینجرز 42 ونگ نے پورے علاقے کو سیل کرکے ملبے کی منتقلی کے عمل کو محفوظ بنایا

تمام پرزوں کو کراچی ائیرپورٹ پر ایک محفوظ جگہ منتقل کردیا گیا ہے جہاں تحقیقاتی ٹیمیں ان کا جائزہ لیں گی

علاقہ مکینوں نے محفوظ طریقے سے ملبہ ہٹانے کیلئے پی آئی اے، کے پی ٹی اور افواج پاکستان کی کاوشوں کو سراہا

پی آئی اے نے کرینوں اور وزنی مشینری کو متاثرہ مکانوں کی چھتوں کو نکالنے کیلئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے

ٹیمیں تکنیکی طور پر بہت تجربہ کار ہیں اور اس کام کو عام مزدوروں کے مقابلے میں بہت احسن اور محفوظ طریقے سے انجام دے سکتی ہیں ترجمان پی آئی اے

سی ای او پی آئی اے ارشد ملک نے تمام اداروں بالخصوص وزیر بحری امور علی زیدی اور نیول ڈاکیارڈ کے سربراہ ایڈمرل ناصر حسین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا