آزاد جموں وکشمیر 23

اقوام متحدہ کشمیر میں مداخلت کرے، سلامتی کونسل کا اجلاس بلا کر مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لائے، صدر آزادکشمیر

 آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر اقوام متحدہ فوری طور پر مداخلت کرے، سلامتی کونسل کا اجلاس بلا کر مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لائے اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل تنازعہ کشمیر کے پرامن سفارتی حل کی راہ ہموارکرنے کے لئے اپنا نمائندہ خصوصی مقرر کریں۔ برطانیہ سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے اور بین الاقوامی برادری کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ یہ بات انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے کل جماعتی ورچوئیل کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس کا اہتمام تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل کے سربراہ راجہ نجابت حسین نے کیا تھا۔ راجہ نجابت حسین کی صدارت میں ہونے والی اس کانفرنس میں پنجاب کے گورنر چوہدری محمد سرور، برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد نفیس ذکریا آل پارٹیز پارلیمانی گروپ آن کشمیر برطانیہ کی چیئرپرسن ایم پی ڈیبی ابراہم، ممبر پارلیمنٹ انجیلا رینر، ایم پی جیک بریٹن، ایم پی اینڈریو گوائن، ایم پی جیمز ڈیلی، ایم پی سارہ اوون، ایم پی ٹریسی باربن، ایم پی ریجل ہوپکن، ایم پی ٹونی لائیڈ، ایم پی یاسمین قریشی، ایم پی محمد یاسین،ایم پی بیل ریبیروایڈی، ایم پی سام ٹیری، سابق ممبر یورپین پارلیمنٹس اینتھی میکن ٹائر،سابق چیئرمین یورپین فرینڈز آف کشمیررچرڈ کاربیٹ، سابق ایم ای پی شفق محمود،سابق ایم ای پی جولی وارڈ، سینیٹر فیصل جاوید، ممبر قومی اسمبلی نورین فاروق ابراہیم،برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر نفیس زکریا، ممبر آزاد کشمیر اسمبلی سحرش قمر،کنونیئر حریت کانفرنس آزادکشمیر فیض نقشبندی، عبدالحمید لون، سید منظور احمد شاہ، علی رضا سیدچیئرمین کشمیر کونسل یورپ، عبید الرحمان قریشی صدر یوتھ پارلیمنٹ پاکستان، کونسلر یاسمین ڈار، مسز آسیہ حسین چیئرپرسن جے کے ایس ڈی ایم آئی، کونسلر سمیرا خورشید، عظمی رسول، شوکت ڈاراور ذیشان عارف نے بھی خطاب کیا۔کانفرنس میں شریک برطانوی پارلیمنٹرین کی اکثریت نے کہا کہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تنازعہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کے لئے بین الاقوامی برادری مداخلت کرے تاکہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جا سکے۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنے خطاب میں صدر سردار مسعود خان نے برطانوی پارلیمنٹ کی تمام پارلیمانی سیاسی جماعتوں کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہا رکرنے اور تنازعہ کشمیر کے پرامن سیاسی تصفیہ کی ضرورت پر زور دینے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کسی تیسرے فریق کی ثالثی سمیت تمام ایسے ذرائع سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے تیار ہے جس میں کشمیریوں کو ایک فریق کی حیثیت سے شامل کیا جائے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ مسئلہ قرار دینے کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے جو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ایک حل طلب مسئلہ کے طور پر آج بھی موجود ہے۔ انہوں نے بھارت کے اس بے بنیاد اور من گھڑت الزام کو بھی مسترد کر دیاکہ پاکستان لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب کسی قسم کی مداخلت کر رہا ہے یا دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت یہ بے بنیاد اور من گھڑت الزامات لگا کر مقبوضہ کشمیر کے اندر اپنے گھناؤنے جرائم پر پردہ ڈالنے اور دنیا کی توجہ کشمیر اور بھارت کی اندرونی صورتحال سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان بھارت کے ایک ارب سے زیادہ عوام کے خلاف نہیں بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کی اُس انتہاء پسندانہ اور فسطائی سوچ کے خلاف ہے جو بھارت میں ہندو بالا دستی کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف اپنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ امن اور ترقی کی باتیں کر رہے ہیں انہیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ کشمیر کے اسی لاکھ انسان آگ کے آلاؤ میں جل رہے ہیں۔ امن اور ترقی سے پہلے دنیا کو اس آگ کو بجھانے پر توجہ دینی ہو گی۔صدر آزادکشمیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام بھارتی درندگی کا شکار ہیں گزشتہ ماہ 31کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود ہندوستان کے بقول جموں وکشمیر میں کل 450کے لگ بھگ جنگجو ہیں، سوال یہ ہے کہ ان مٹھی بھر جنگجوؤں کو ہندوستان کی نو لاکھ سے زائد تعینات فوج کیا قابو میں نہیں رکھ سکتی۔ صدر مسعود خان نے کہا کہ وہ اس نکتے کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں کہ عالمی راڈار سکرین پر ہندوستان کی جانب سے نافذ مقبوضہ کشمیر میں نیا ڈومیسائل قانون غائب ہے۔ اور ہندوستان COVID-19کی آڑ میں اس کالے قانون کے تحت پورے ہندوستان سے ہندوؤں کو لاکر مقبوضہ کشمیر میں آباد کرنا چاہتا ہے۔ اس ضمن میں وہ اُن تمام سول سرونٹس، سابقہ فوجیوں، اساتذہ، طالب علموں کو آباد کرنا چاہتا ہے جنہوں نے مختلف ادوار میں دس سال کشمیر میں ملازمت کی ہو یا وہ پندرہ سال سے کشمیر میں رہ رہے ہوں یا انہوں نے دسویں اور بارہویں کا امتحان پاس کیا ہو۔ علاوہ ازیں وہ ہندوستان کے مختلف شہروں میں آباد کشمیری مہاجرین کو لاکر واپس کشمیر میں آباد کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان آبادکاریوں میں انتہائی برق رفتاری کا مظاہرہ کر رہا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر کوئی متعلقہ حکومتی اہلکار پندرہ ایام کے اندر ڈومیسائل کی درخواست کو پراسیس کر کے اُس کی اجرائیگی کو ممکن نہیں بناتا تو اُس پر پچاس ہزار کا جرمانہ کیا جائے گا۔ صدر آزادکشمیر نے اپنے خطاب میں یورپین پارلیمنٹ کے اُن چھ سو ارکان کا بھی خاص طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے مسئلہ کشمیر کو پرامن طور سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل کرنے کا مطالبہ کیا اور بھارت کے نئے شہریت قانون کو مسترد کرتے ہوئے اس پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے برطانوی پارلیمنٹ میں تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کا کشمیر کانفرنس میں شریک ہونے اور کشمیر کے حوالے سے اپنا نکتہ نظر پیش کرنے پر اُن کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کرونا وائرس کی وباء سے برطانیہ بھر میں ہزاروں برطانوی شہریوں کی جانوں کے نقصان پر ارکان پارلیمنٹ، برطانیہ کی حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کا کرتے ہوئے اُنے سے یکجتہی کا اظہار کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں