مظفرآباد 21

سلامتی کونسل کشمیر کے حوالہ سے ذمہ داریاں پوری کرنے میں نا کام رہی ہے۔ صدر آزاد کشمیر

مظفرآباد آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اقوام متحدہ، اس کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل ریاست جموں و کشمیر کے تنازعہ پر خاموشی اختیار کر کے اپنے فرائض اور عالمی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر رہے ہیں۔ جموں و کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان، اقوام کے سیکرٹری جنرل برطانیہ اور ناروے کے کچھ سابق وزراء اعظم کی اس تنازعہ کے حل کے لیے ثالثی کا خیر مقدم کریں گے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ کشمیر ی عوام کو بھی بات چیت اور گفت و شنید کا حصہ بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے گزشتہ روز ایوان صدر مظفرآباد سے ویڈیو لنک کے ذریعے برطانوی پارلیمنٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے پندرہ سے زیادہ ممبران پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی کی صدارت میں ہونے والی اس پارلیمانی کانفرنس سے برطانوی پارلیمنٹ کے رکن پال بریسٹو، لیبر فرینڈز آ ف کشمیر کے چیئرمین ایم پی اینڈریو گوائن، کنزرو ویٹو پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ اسٹیو بیکر، لیبر پارٹی کی ممبر پارلیمنٹ کیٹ ہولرن، کنزرویٹو پارٹی کی ممبر پارلیمنٹ سارہ بریٹ لیف، سکاٹش نیشنل پارٹی کی ممبر پارلیمنٹ علیسن تھیولیس، لیبر پارٹی کے رچرڈ بر گن کے علاوہ ممبران پارلیمنٹ جوناتھن گولیس، انتھونی ہیگن بوتم، مارکو لونگی، جمیس ڈیلی، جیس فلپس اور پال بریسٹو نے بھی خطاب کیا۔ممبران پارلیمنٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں، بھارت میں مسلمانوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حق خود ارادیت دینے کی حمایت کی اور اس بات کا بھی یقین دلایا کہ برطانوی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر پر موخر ہونے والی بحث کو جلد شروع کیا جائے گا جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی طرف سے کانفرنس میں غلام محمد صفی اور الطاف احمد بٹ نے نمائندگی کی۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنے خطاب میں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیریوں کی با معنی شرکت کے بغیر مسئلہ کشمیر کا کوئی دیر پا حل ممکن نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کشمیری سفارتکاری کے ذریعے تنازعہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں اور اُن کا یہ مطالبہ کوئی گناہ یا جرم ہے اور نہ ہی یہ مطالبہ کوئی عسکریت پسندی ہے ہم بس اتنا کہتے ہیں مذاکرات کی میز پر آئیں اور بات چیت کریں اور یہی مسائل حل کرنے کا مہذبانہ اور با وقار طریقہ ہے اور اس عمل کو شروع کرنے میں اقوام متحدہ کا کردار مرکزی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اقوام متحدہ کو سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے اور وہ اپنے چارٹر کے مطابق کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ اس وقت مقبوضہ جموں و کشمیر میں روزانہ کی بنیاد پر انسانی حقوق کی بد ترین پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنے چارٹر کے برخلاف خاموش ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ انتقامی کاررائیوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ یہ بھارت اور پاکستان کے درمیان معاملہ نہیں ہے اور اسی طرح مقبوضہ جموں و کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ ایک عالمی معاملہ ہے۔ بھارت مذہبی بالادستی کے فسطائی راستے پر چل رہا ہے اور بین الاقوامی برداری اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کی وجہ سے اس کو نظر انداز یا قالین کے نیچے نہیں دبا سکتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے جو ارکان اس کانفرنس میں موجود ہیں اُن سب کا کشمیر کے حوالے سے اہم مسائل پر اتفاق رائے ہے اور ہم سب بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی اور راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کے اُس ڈاکٹرائن پر تنقید کر رہے ہیں کیونکہ ہندو توا کا یہ نظریہ پر تشدد انتہا پسندی کو ہوا دے رہا ہے۔ ہم بھارتیوں کے خلاف نہیں ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ بھارت میں اب بھی لاکھوں ایسے لوگ ہیں جو بھارتی مسلمانوں سے ہمدردی رکھتے ہیں اور کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں۔ صدر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں