murree-newsmurree 18

لاک ڈون کے دوران ٹرانسپورٹروں کے وارے نیارے، انتظامیہ کی بے حسی۔ مسافروں سے دگنا کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔

چترال(گل حماد فاروقی)لاک ڈون میں ٹرانسپورٹروں کو جزوی چوٹ دینے کا ڈرائیور حضرات غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بظاہر اڈہ تو بند ہے مگر گاڑیاں باری باری اڈے سے باہر سڑک کے کنارے کھڑے ہوکر سواری بٹھاتے ہیں اور ان سے دگنا کرایہ وصول کرکے منزل مقصود تک پہنچاتے ہیں۔ لاک ڈون سے پہلے چترال سے دروش تک غواگے گاڑی میں چھ سواری بٹھاکر فی سواری ڈیڑھ سو روپے کرایہ وصول کیا جاتا تھا جو کل نو سو روپے بنتا تھا مگر اب چار سواری بٹھا کر تین سو روپے کرایہ وصول کیا جاتا ہے جو بارہ سو روپے بنتے ہیں
سواری مجبور ہیں اور انتظامیہ بے حس جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹر عوام کی مجبوری سے غلط فائدہ اٹھارہے ہیں۔ عشریت سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن جاوید احمد نے بتایا کہ پہلے عشریت سے دروش تک سو روپے کرایہ غواگئے میں وصول کیا جاتھا اب دو سو روپے وصول کی جاتی ہے۔ حاجی سعید اللہ نے بتایا کہ چترال سے سینگور تک کرایہ پہلے تیس روپے تھا اب سو روپے تک بڑھایا گیا۔ اسی طرح آیون اور دیگر علاقوں کے بھی کرائے دگنے کئے گئے۔ جب ڈرائیور سے دگنا کرایہ وصول کرنے کی وجہ پوچھی گئی تو کہنے لگا کہ لاک ڈون ہے۔
اس سلسلے میں ہمارے نمائندے نے چترال کے اسسٹنٹ کمشنر عبد الولی خان جو ٹرانسپورٹ مجسٹریٹ بھی ہے ان کو باقاعدہ شکایت کی جس نے وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ ان کے حلاف کاروائی کریے گا مگر ابھی تک کچھ بھی نہیں ہوا۔
دروش کے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر عبد الحق کو بھی باقاعدہ ایک گاڑی کا نمبر بھی بتایا گیا جس میں ہمارے نمائندے نے خود چترال سے دروش تک سفر کیا تھا اور اس سے تین سو روپے کرایہ وصول کیا گیا اے اسے سی دروش کو مسیج میں اس گاڑی کا نمبر AE5415 بھی بھیج دیا گیا مگر ایکشن ندارد۔
ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے ان مسافروں نے بتایا کہ لاک دون کی وجہ سے تمام طبقہ متاثر ہوا ہے جس میں دائیری مار مزدور، کاروباری طبقہ اور کاریگر بھی شامل ہیں اگر وہ لوگ بغیر کسی کام کاج کے گھروں میں بیٹھے ہیں تو گاڑی والو ں کو بھی چاہئے کہ وہ بھی کچھ برداشت کا مظاہرہ کرے ان کو اگر تین سواری بٹھانے کی اجازت ملی ہے جو کہ وہ چار سواری بٹھاتے ہیں تو ان کو اس پر شکر کرکے مسافروں سے سرکاری طور پر مقرر شدہ کرایہ ڈیڑھ سو وصول کرنا چاہئے اگر بہت زیادہ لینا چاہے تو ڈیڑھ سو کی بجائے دو سو روپے کرایہ وصول کرے مگر دگنا کرایہ یعنی تین سو روپے کرایہ زیادتی ہے۔یہ لوگ پچھلے کئی ہفتوں سے چوری چپے مسافروں کو گاڑی میں بٹھاکر ان سے دگنا کرایہ وصول کرتے ہیں مگر انتظامیہ بالکل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
چترال کے عوام نے ضلعی انتظامیہ کی اس نا اہلی پر نہایت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ریاض احمد مسعود اور صوبائی حکومت سے مداحلت کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ چترال اور ملاکنڈ ڈویژن میں ٹراسپورٹروں کو مسافروں سے دگنا کرایہ وصول کرنے سے روکے اور ان کے حلاف کاروائی کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں