Chaman border 26

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو تفتان، طورخم اور چمن بارڈرز پر 1000 افراد کی گنجائش

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو تفتان، طورخم اور چمن بارڈرز پر 1000 افراد کی گنجائش کے قرنطینہ مراکز ایک ماہ میں قائم کرنے اور کورونا وبا سے اٹھنے والے معاملات کی قانون سازی کے لیے فوراً اقدامات کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

چیف جسٹس نے کورونا وبا کے خلاف حکومتی اقدامات بارے کیس میں 6 صفحاتی تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ عدالت محسوس کرتی ہے کہ کورونا سے اٹھنے والے معاملات پر ہنگامی طور پر قانون سازی کی ضرورت ہے۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا ہے کہ قرنطینہ کی ضرورت وہاں پر ہے جہاں ملک میں زمینی داخلہ ہو سکے اور پاکستان میں زمینی داخلہ کے تین مقامات تفتان، چمن اور طورخم ہیں۔

تحریری فیصلے میں آبزرویشن دی گئی ہے کہ ان تین مقامات پر مکمل اور جامع طور پر قرنطینہ نہیں ہیں جس کی وجہ سے وبا بڑھنے کا خطرہ پاکستانیوں کے سر پر منڈلا رہا ہے جب تک ان تین پوائنٹس پر پراثر قرنطینہ کا بندوبست نہیں کیا جاتا کورونا وبا کو روکنا ممکن نہیں ہو سکے گا۔

سپریم کورٹ نے احکامات میں مزید کہا ہے کہ تینوں بارڈرز پر بڑے قرنطینہ مراکز میں صاف پانی کی فراہمی، صاف واش رومز، ایمرجنسی میڈیکل سینٹرز تمام آلات اور دواؤں کے ساتھ یقینی بنائے۔

سپریم کورٹ نے مزید حکم دیا ہے کہ بنائے جانےوالے قرنطینہ سنٹرز میں رکھے جانے والےافراد کو بہترین غذا اور ضروریات زندگی کی تمام اشیاء کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔

قرنطینہ قائم کرنے کے حوالے سے عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کے حکم کے ساتھ سپریم کورٹ نے انتظامیہ کو متنبہ کیا ہے کہ عملدرآمد نہ کرنے پر اعلی سطح افسران کے جلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جا سکتی ہے۔

احساس پروگرام کےتحت متوسط طبقے کی مالی مدد پر سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی ہے کہ یہ پیسہ انکے لیے نہیں جو آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں بلکہ یہ رقم حقیقی معنوں میں حقدار افراد کو ملنی چاہیے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ رقم ملک بھر میں مقامی حکومتوں کو آن بورڈ لے کر ان کی مدد سے تقسیم کی جائے۔

تحریری فیصلے میں حکومت کو احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ پاکستان میں وینٹیلیٹرز بنانے کے لیے تمام تر وسائل مہیا کرنے کو یقینی بنایا جائے تاکہ انہیں ہسپتالوں اور طبی نراکز میں جلد از جلد پہنچایا جا سکے۔

سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی ہے ملک میں کئی جگہوں پر ڈاکٹروں اور طبی عملہ کوکورونا کے مریض کے علاج کے لیے ذاتی حفاظتی سازوسامان کی سہولت نہیں جس کیوجہ سے انکی اپنی جانیں خطرے میں ہیں۔

وفاقی، صوبائی اور گلگت بلتستان کی ھکومتوں کو احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ وہ ہسپتالوں میں صفائی کی ابتر صورتحال ختم کرنے کے لیے احتیاطی تدابیر اپنائیں۔

سپریم کورٹ نے مزید احکامات دہے ہیں کہ ہسپتالوں کے باہر گلیوں اور اردگرد جراثیم کش سپرے کیے جائیں اور ہسپتال کے فضلے کو صحیح ضائع کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے خبردار کیا ہے کہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کی طرف سے ذاتی حفاظتی سازوسامان کے حوالے سے شکایا ت نہیں آنی چاہیے۔ سپریم کورٹ نے مزید احکامات جاری کیے ہیں کہ ڈاکٹروں کی باقاعدہ پوسٹوں پر کنٹریکٹ بھرتی نہ کیے جائیں اور قانون کے مطابق تعیناتیاں ریگولر کی جائیں۔

سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت پیر کے روز پانچ رکنی بینچ کرے گا۔

واضح رہے کہ متاثرین کرونا کی امداد اور صحت کی سہولیات کےحوالے سے چیف جسٹس جسٹس گزار احمد کو آج بریفنگ دی جا ئے گی۔

بریفنگ لینے والوں میں چیف جسٹس کے ساتھ سپریم کورٹ کے دیگر ججز بھی شریک ہونگے۔

بریفنگ دینے کے لیے وزیر اعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر، ثانیہ نشتر اور این ڈی ایم اے کے اعلی افسران سپریم کورٹ آئیں گے۔ بریفنگ میں اٹارنی جنرل بھی شریک ہونگے۔

صحت کی سہولیات اور امداد کی فراہمی کی شفافیت پر گذشتہ روز عدالت نے سوال اٹھایا تھا۔ امداد اور صحت کی سہولیات کے طریقہ کار اور اعداد و شمار کے حوالے سے اٹارنی جنرل نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے بریفنگ کی اجازت کی استدعا کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں