صدر سردار مسعود خان 45

آزادجموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے ملائشیا کے وزیر خارجہ سیف الدین عبداللہ سے ملاقات

کوالالمپورآزادجموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے ملائشیا کے وزیر خارجہ سیف الدین عبداللہ سے ملاقات کی اور ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اقدامات کے خلاف واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کرنے پر جمو ں و کشمیر کے عوام کی طرف سے دلی شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم مہاتیر محمد نے پانچ اگست 2019کو بھارتی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کو ریاست پر حملہ اور قبضہ قرار دیکر جموں وکشمیرکے عوام کے دل جیت لئے ہیں۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ جمو ں و کشمیر کے عوام ملائشیا کی حکومت اور عوام کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ملائشیا کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے بھی اپنا رول ماڈل سمجھتے ہیں۔وزیراعظم مہاتیر محمد کو عالم اسلام کی ایک مضبوط اور توانا آواز قرار دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام انھیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے صدر آزادکشمیرنے ملائشین وزیرخارجہ کو بتایا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر پر حملہ کرنے کے بعد مقبوضہ ریاست کی اسی لاکھ سے زیادہ آبادی کو محاصرے میں لے رکھا ہے، ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر کے انھیں جیلوں میں بندکر دیا گیا ہے جبکہ ریاست کو اپنی کالونی میں بدل دیا ہے۔صدر آزادکشمیر نے مذید کہا کہ بھارتی حکومت کا منصوبہ ہے کہ وہ ریاست جموں وکشمیر کے عوام کی زمین اور ان کے گھر چھین کر وہاں بھارت ھندووٰن کو لاکر آباد کرے گی تاکہ مقبوضہ ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت میں تبدیل کیا جائے۔ بھارتی حکومت کے یہ تمام اقدامات نہ صرف غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہیں بلکہ بین الااقوامی قوانین کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے جس کے لئے بھارت کو جوابدہ ٹھہرایاجانا چاہیے۔مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم اور جبر کے اقدامات کو کشمیریوں کی نسل کشی قرار دیتے ہوئے صدر سردارمسعود خان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھکر کشمیریوں کو بھارتی استعمارسے بچائے اور انھیں ان کا بنیادی حق، حق خود ارادیت دلانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس کی ھندو توا پالیسی کو خطہ کے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے لئے ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارتی حکمران آزادکشمیر پر قبضہ کرنے اور پاکستان کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکیاں دے کر جنگ کے شعلے بھڑکانے کی پالیسی پر گامزن ہیں اور اگر یہ جنگ ہوئی تو اس کے نتائج نہ صرف خطہ کے امن کے لئے بھیانک ہوں گے بلکہ اس سے پوری دنیا پر انتہائی منفی اور تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان اور ملائشیا کے درمیان انتہائی قریبی اور برادرانہ تعلقات ہیں اور دونوں ممالک اہم عالمی مسائل پر یکساں موقف رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک دنیا میں اسلام کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں اور اسلاموفوبیا کا بھی گہرا ادراک رکھتے ہیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ملائشیا کے وزیر خارجہ سیف الدین عبداللہ نے کہا کہ ملائشیا کے عوام کی مسئلہ کشمیر کے ساتھ گہری دلچسپی ہے اور اس تنازعہ کے حوالے سے ملائشیا کے عوام میں مکمل آگاہی اور شعور موجود ہے۔ انھوں نے یقین دلایا کہ ملائشیا کے عوام کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور حق خودارادیت کے حصول کے لئے ان کی جائز اور منصفانہ جدوجہد کا ساتھ دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ملائشیا امن اور خوشحالی پر یقین رکھنے والا ملک ہے اور وہ مسئلہ کشمیر کا پر امن سیاسی و سفارتی حل چاہتا ہے۔ وزیر خارجہ سیف الدین عبداللہ نے اہل جموں و کشمیر کو اپنے بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک آزادجموں و کشمیر میں ثقافتی، سماجی اور معاشی سرگرمیاں شروع کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے ملائشین وزیر خارجہ کی طرف سے آزاد جموں و کشمیر کے لئے نیک جذبات کا اظہار کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے آزادکشمیر اور ملائشیا کے درمیان تعلقات کو مذید مستحکم کرنے کے لئے مظفرآباد میں جلد ایک کلچرل سینٹر قائم کیا جائے گا اور آزادکشمیر کی حکومت ملائشیا کے سرمایہ کاروں کی طرف سے معدنیات اور صنعتی شعبہ میں سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ ہم ملائشیاکو آسیان ممالک کی طر ف بڑھنے کے لئے پہلا دروازہ تصور کرتے ہیں۔ صدر سردار مسعود خان نے اس موقع پر ملائشین رابطہ کونسل برائے اسلامک آرگنائزیشن کا بھی شکریہ ادا کیا۔#

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں